پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف عملی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ مطالبہ کسی بھی خودمختار ریاست کا بنیادی حق ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے شہریوں پر حملوں یا تخریب کاری کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ صرف سفارتی یقین دہانیوں سے دہشت گردی کے اس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں حملے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ ان گروہوں کی نقل و حرکت اور مالی معاونت کو روکنے کے لیے افغان حکومت کی جانب سے قابلِ تصدیق اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ سرحد کے دونوں جانب امن قائم ہو سکے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوے ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں معاشی نقصانات، تباہ شدہ کاروبار اور سماجی عدم استحکام جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے قومی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں منظور کردہ 'عزمِ استحکام' وژن اسی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کرنا اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں بلکہ اس کے لیے قانون کی یکساں عمل داری، سرحدی نگرانی اور مالیاتی ذرائع کی بندش بھی ضروری ہے۔ ریاست کو ان علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا حالیہ اجلاس اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ داخلی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس اہلکاروں کو جدید اسلحہ، تربیت اور مواصلاتی نظام کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود اہلکاروں کی حفاظت اور ان کے وسائل میں اضافہ داخلی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کا نقصان کسی ایک ریاست تک محدود نہیں رہتا۔ اگر افغانستان اپنی سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کو کھلی چھوٹ دیتا ہے تو اس سے خطے کے معاشی روابط، تجارت اور علاقائی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔
افغان حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ امن کا راستہ دھمکیوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ایک دوسرے کی سلامتی کے احترام سے نکلتا ہے۔
پاکستان بیک وقت دو محاذوں پر کام کر رہا ہے؛ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف سخت اور واضح مؤقف، اور دوسری طرف سفارتی رابطے تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ یہ توازن قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
عوامی اعتماد کا تحفظ اس جنگ کا ایک اہم تقاضا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی بحالی، شہدا کے ورثا کی کفالت اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے کم ہوں۔
آخر میں، پاکستان کا مطالبہ اصولی ہے اور اس کی کامیابی پورے خطے کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔ جب تک دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں ملتی رہیں گی، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔





اپنی رائے دیں