پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات میں کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ایک اہم افسر کو رشوت کی پیشکش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران برتھ پر الزام ہے کہ انہوں نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کو 2 لاکھ روپے رشوت کے طور پر دینے کی کوشش کی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک 5 اکتوبر 2026 کو رات تقریباً 10 بجے آئی جی جیل خانہ جات سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے آئے۔ ابتدائی طور پر ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، تاہم بعد ازاں ملزم نے دوبارہ ملاقات کا وقت مانگا اور آئی جی کی میز پر نوٹوں سے بھرا لفافہ رکھ دیا۔
آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے اپنے 33 سالہ کیریئر میں پیش آنے والے اس واقعے کو انتہائی غیر معمولی قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے ملاقات کے دوران لفافہ پیش کیا جس پر انہوں نے فوری طور پر سارجنٹ کو طلب کر کے ملزم کو حراست میں لینے کا حکم دیا۔
میاں سالک جلال نے فوری طور پر ہوم سیکرٹری کو واقعے سے آگاہ کیا اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم کو موقع پر طلب کر لیا۔ اینٹی کرپشن کی ٹیم نے لفافے سے 2 لاکھ روپے برآمد کر کے ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے عمران برتھ کو فوری طور پر عہدے سے معطل کر دیا ہے۔ معطلی کے باضابطہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افسر کو کرپشن اور بدعنوانی کے سنگین الزامات کے تحت ملازمت سے ہٹایا گیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ نے اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے محکمہ میں کرپشن کے کلچر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے آئی جی جیل خانہ جات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ کیس کی تفتیش مکمل میرٹ پر کی جائے گی۔
آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال کا کہنا ہے کہ محکمہ میں کرپشن، رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی سطح پر قانون شکنی کرنے والے کو ہرگز رعایت نہیں دی جائے گی۔
اس واقعے کے بعد جیلوں میں اصلاحات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات نے ڈنمارک بزنس فورم کے چیئرمین ندیم الٰہی کے ساتھ ملاقات میں جیلوں میں جدید سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں قیدیوں کے لیے پروفیشنل کچن، ایمبولینسز اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ آئی جی جیل خانہ جات نے کہا کہ نجی شعبے اور اوورسیز پاکستانیوں کا تعاون جیل اصلاحات کے عمل کو مزید موثر اور شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
جیلوں میں قیدیوں کی ہنرمندی کی تربیت اور اصلاحی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیل اصلاحات کا بنیادی مقصد قیدیوں کو بہتر ماحول فراہم کر کے انہیں معاشرے کا مفید شہری بننے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق سزا کو یقینی بنایا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
سماجی حلقوں نے آئی جی جیل خانہ جات کے اس اقدام کو سراہا ہے اور اسے محکمہ میں شفافیت لانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے جیل انتظامیہ میں احتساب کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے اور افسران میں قانون کی پاسداری کا پیغام گیا ہے۔
آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے بتایا کہ ملزم نے ملاقات کے دوران معافی مانگنے کی کوشش بھی کی، تاہم انہوں نے قانون کے مطابق کارروائی کو ترجیح دی۔ محکمہ داخلہ پنجاب اس کیس کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔





اپنی رائے دیں