مانسہرہ میں غیرت کے نام پر ہونے والے دوہرے قتل کے افسوسناک واقعات کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ ضلعی پولیس نے تفتیش کے بعد انکشاف کیا ہے کہ دونوں مقتولین کو ان کے اپنے ہی بھائیوں نے قتل کیا تھا۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مانسہرہ محمد اظہر خان کے مطابق چھ اکتوبر کو شہر کے مختلف تھانوں کی حدود سے دو لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ ابتدائی طور پر لواحقین نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کروائے، تاہم پولیس نے شواہد کی روشنی میں اصل حقائق تک رسائی حاصل کر لی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 27 سالہ گل نواز کو ان کے بھائی امجد نے جبکہ 18 سالہ سمیرا بی بی کو ان کے بھائی عابد نے قتل کیا۔ دونوں واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تفتیش کے دوران انہوں نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے۔
واقعات کی تفصیلات کے مطابق سمیرا بی بی گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ تھیں، جن کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ سٹی میں درج تھی۔ مقتولہ کے اہلخانہ کو شبہ تھا کہ ان کی گل نواز نامی شخص سے دوستی ہے، جس پر دونوں خاندانوں کے درمیان متعدد بار جرگے بھی منعقد ہوئے تاکہ معاملے کو حل کیا جا سکے۔
پولیس کے تفتیشی افسر محمد شہزاد نے بتایا کہ گل نواز کے بھائی نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے سمیرا کے اہلخانہ کو نامزد کیا تھا۔ تاہم تفتیش سے ثابت ہوا کہ گل نواز کو ان کے بھائی امجد نے قتل کیا، جبکہ سمیرا کو ان کے بھائی عابد نے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گل نواز کے خاندان نے سمیرا کے قتل کی خبر ملنے کے بعد یہ اقدام اٹھایا تاکہ خاندانی دشمنی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ ملزمان نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹے بیانات دیے اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔
تھانہ صدر کے ایس ایچ او محمد عامر نے واضح کیا کہ پولیس کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ لواحقین آپس میں صلح کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن ریاست کی مدعیت میں مقدمہ چلایا جائے گا تاکہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران ملک بھر میں سینکڑوں افراد اس فرسودہ روایت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی اس طرح کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں کوہستان اور راولپنڈی سمیت دیگر علاقوں میں بھی غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات درج کیے گئے، جن میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کا عمل جاری ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے معاملات میں قانون کا سہارا لیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی کارروائی سے گریز کریں تاکہ معاشرے میں امن قائم رہ سکے۔
مانسہرہ پولیس نے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عدالت میں چالان جلد پیش کیا جائے گا تاکہ ملزمان کو ان کے کیے کی سزا مل سکے اور معاشرے میں ایک مثال قائم کی جا سکے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں موجود فرسودہ روایات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون پر سختی سے عمل درآمد اور سماجی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔
پولیس اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ کیا ان جرگوں میں شامل دیگر افراد بھی اس جرم میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھے یا نہیں۔ تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔





اپنی رائے دیں