چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کل ایک مختصر نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔ اس دورے کے حوالے سے مختلف ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چیف جسٹس اپنی ذاتی مصروفیات کے سلسلے میں بیرون ملک کا سفر کریں گے۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا یہ دورہ مکمل طور پر نجی نوعیت کا حامل ہے جس کے دوران وہ کچھ دن انگلینڈ میں قیام کریں گے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے دورے کو مکمل کرنے کے بعد 21 اکتوبر کو واپس پاکستان پہنچ جائیں گے۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سے عدالتی امور کی انجام دہی میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے تعطیلات کے دوران بھی اپنی ذمہ داریوں کو ترجیح دی اور چھٹیاں کرنے کے بجائے اپنے فرائض کی ادائیگی جاری رکھی۔
عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی کاموں کو جاری رکھنے کا فیصلہ ان کی پیشہ ورانہ وابستگی اور عدلیہ کے وقار کو بلند رکھنے کے عزم کا عکاس ہے۔ وہ عدالتی نظام میں بہتری لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔
چیف جسٹس کے اس مختصر نجی دورے کے دوران سپریم کورٹ کے معمول کے عدالتی امور حسب معمول جاری رہیں گے۔ عدالتی نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ سائلین کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں چیف جسٹس کا کردار انتہائی کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے منصب سنبھالنے کے بعد سے عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔
ان کی جانب سے تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کے فیصلے کو قانونی حلقوں میں سراہا گیا ہے۔ یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدلیہ کا ادارہ ملک میں انصاف کی فراہمی کے لیے کس قدر سنجیدہ اور متحرک ہے۔
انگلینڈ کا یہ دورہ چیف جسٹس کی ذاتی نوعیت کی مصروفیات کا حصہ ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے فرائض سنبھالیں گے۔ ان کی واپسی کے بعد سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعتوں کا سلسلہ دوبارہ پوری قوت کے ساتھ شروع ہوگا۔
ملک بھر میں عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور زیر التواء مقدمات کو جلد نمٹانا چیف جسٹس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وہ عدلیہ کے اندر شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں سپریم کورٹ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا یہ دورہ ان کی ذاتی زندگی کا حصہ ہے، جس کے بعد وہ اپنی پوری توجہ عدالتی اصلاحات اور انصاف کی فراہمی پر مرکوز رکھیں گے۔
پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے اپنے فرائض کے تئیں دکھائی گئی یہ سنجیدگی عدلیہ کے وقار کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔
امید کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس کی واپسی کے بعد عدالتی امور میں مزید تیزی آئے گی اور انصاف کے متلاشی شہریوں کو جلد ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے اس دورے کے حوالے سے تمام تر تفصیلات واضح کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جا سکے۔ وہ اپنے شیڈول کے مطابق 21 اکتوبر کو دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔





اپنی رائے دیں