مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:37
بریکنگ
ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہپی ٹی آئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقویکوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید میجر حسنین اور کیپٹن عبدالصمد کی نمازِ جنازہ اداعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہکراچی میں پولیس کے ایکشن، مختلف مقابلوں کے دوران 3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتارپاکستان کا دوٹوک مؤقف: افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہےدہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہےبلاول بھٹو کا فیصل کریم کنڈی کو پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر جانے کا حکمتماشہ 5 کی رنر اپ اسرا عائشہ کا اپنے ساتھی امیدواروں کے رویے پر ردعملخیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنجچیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہوں گےمانسہرہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل، مقتولین کے بھائی گرفتارامریکی ریپر ٹوپاک شکور کے قتل میں ملوث سابق گینگ لیڈر کو 40 سال قید کی سزا
پاکستان

خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنج

صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں قومی مفاد اور جمہوری استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنج

ملک میں جب بھی سیاسی عدم استحکام یا سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو قومی سطح پر بحث و مباحثے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور اس کے انتظامی اثرات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ایک مؤثر اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی انتظامی فیصلے کا انحصار اس کے قانونی جواز اور عوامی فلاح کے نتائج پر ہونا چاہیے۔

سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات اپنی جگہ، لیکن جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے مکالمہ اور رابطے ناگزیر ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی بارہا جمہوری استحکام اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

جمہوریت کا مطلب محض انتخابات کا انعقاد نہیں، بلکہ اس میں عوامی نمائندگی، آئینی حدود کا احترام اور جوابدہی کے اصول شامل ہیں۔ صوبے میں انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے ایک ایسے بندوبست کی ضرورت ہے جو عوامی اعتماد کو بحال کر سکے۔

دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب سیاسی محاذ آرائی قومی سلامتی اور عوامی فلاح کے معاملات پر حاوی ہو جاتی ہے تو اس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

امن و امان کی بہتری کے لیے مقامی آبادی کا تعاون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عوام کا اعتماد حاصل کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کو اس وقت ایک مستقل قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کو یکجا کر سکے۔ ماضی کے دائروں میں گھومنے کے بجائے مستقبل کی طرف پائیدار راستہ اختیار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ تباہی اور مشکلات سے گزرنے والی قومیں بھی مسلسل محنت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کی منازل طے کر سکتی ہیں۔ ویت نام جیسے ممالک کی تعمیرِ نو اس کی واضح مثال ہے۔

پاکستان کی ترقی کا سفر سیاسی کشمکش اور داخلی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ اداروں کی مضبوطی، تعلیم، اور سرمایہ کاری کے لیے پرامن ماحول کا قیام بنیادی شرط ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں اصل امتحان یہ ہے کہ امن و امان کی بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ کسی بھی حکومتی فیصلے کی افادیت اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے ثابت ہوتی ہے۔

اگر عوام کی زندگیوں میں بہتری آتی ہے اور دہشت گردی میں کمی واقع ہوتی ہے، تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ یہ عمل قومی یکجہتی اور اجتماعی رویوں کے درست تعین کا متقاضی ہے۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو قیامِ پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔ آج بھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم ان اصولوں پر کاربند رہیں۔

آخر میں، یہ فیصلہ ہماری سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی ترقی کو اولین ترجیح بناتے ہیں۔ ایک مستحکم اور پرامن پاکستان ہی ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں