ملک میں جب بھی سیاسی عدم استحکام یا سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو قومی سطح پر بحث و مباحثے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور اس کے انتظامی اثرات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ایک مؤثر اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی انتظامی فیصلے کا انحصار اس کے قانونی جواز اور عوامی فلاح کے نتائج پر ہونا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات اپنی جگہ، لیکن جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے مکالمہ اور رابطے ناگزیر ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی بارہا جمہوری استحکام اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔
جمہوریت کا مطلب محض انتخابات کا انعقاد نہیں، بلکہ اس میں عوامی نمائندگی، آئینی حدود کا احترام اور جوابدہی کے اصول شامل ہیں۔ صوبے میں انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے ایک ایسے بندوبست کی ضرورت ہے جو عوامی اعتماد کو بحال کر سکے۔
دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب سیاسی محاذ آرائی قومی سلامتی اور عوامی فلاح کے معاملات پر حاوی ہو جاتی ہے تو اس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
امن و امان کی بہتری کے لیے مقامی آبادی کا تعاون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عوام کا اعتماد حاصل کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔
پاکستان کو اس وقت ایک مستقل قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کو یکجا کر سکے۔ ماضی کے دائروں میں گھومنے کے بجائے مستقبل کی طرف پائیدار راستہ اختیار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ تباہی اور مشکلات سے گزرنے والی قومیں بھی مسلسل محنت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کی منازل طے کر سکتی ہیں۔ ویت نام جیسے ممالک کی تعمیرِ نو اس کی واضح مثال ہے۔
پاکستان کی ترقی کا سفر سیاسی کشمکش اور داخلی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ اداروں کی مضبوطی، تعلیم، اور سرمایہ کاری کے لیے پرامن ماحول کا قیام بنیادی شرط ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں اصل امتحان یہ ہے کہ امن و امان کی بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ کسی بھی حکومتی فیصلے کی افادیت اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے ثابت ہوتی ہے۔
اگر عوام کی زندگیوں میں بہتری آتی ہے اور دہشت گردی میں کمی واقع ہوتی ہے، تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ یہ عمل قومی یکجہتی اور اجتماعی رویوں کے درست تعین کا متقاضی ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو قیامِ پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔ آج بھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم ان اصولوں پر کاربند رہیں۔
آخر میں، یہ فیصلہ ہماری سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی ترقی کو اولین ترجیح بناتے ہیں۔ ایک مستحکم اور پرامن پاکستان ہی ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔





اپنی رائے دیں