عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیت نووی پلّے کو دو ہزار چھبیس کے نوبیل امن انعام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز ان تمام افراد کے لیے حوصلے کا باعث ہے جو دنیا بھر میں مظلوم طبقات اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
نوبیل کمیٹی کی جانب سے یہ اعزاز امن کے فروغ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ نووی پلّے کی پوری زندگی ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد اور حق کی تائید میں گزری ہے۔
نووی پلّے انیس سو اکتالیس میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے نسلی امتیاز کے پرآشوب دور میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ جنوبی افریقہ میں رنگ برنگی پالیسیوں کے خلاف سرگرم کارکنوں اور نیلسن منڈیلا کے قانونی دفاع سے وابستہ رہیں۔
انیس سو پچانوے میں وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کی پہلی سیاہ فام خاتون جج مقرر ہوئیں جس کے بعد انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی عدلیہ اور انسانی حقوق کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں بھی فرائض سرانجام دیے۔
نووی پلّے دو ہزار آٹھ سے دو ہزار چودہ تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے منصب پر فائز رہیں۔ اس دوران انہوں نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کی اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے موثر اقدامات کیے۔
انہوں نے دو ہزار اکیس سے دو ہزار پچیس تک فلسطینی مقبوضہ علاقوں اور اسرائیل کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی۔ اس کمیشن نے خطے میں بین الاقوامی قانون کی خلافورزیوں اور انسانی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا۔
اسرائیل کی جانب سے ان تحقیقاتی رپورٹس اور نتائج کو مسترد کیا گیا ہے تاہم نووی پلّے کی پیشہ ورانہ خدمات اور انسانی حقوق کے لیے ان کی مستقل آواز کو عالمی سطح پر ہمیشہ سراہا گیا ہے۔
نوبیل فاؤنڈیشن کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کی نوبیل اعزازات تک رسائی کی تاریخ بھی خاصی طویل جدوجہد پر مبنی ہے۔ انیس سو ایک میں نوبیل انعامات کے آغاز سے لے کر اب تک یہ اعزاز پانے والی خواتین کی مجموعی تعداد محدود رہی ہے۔
مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں میری کیوری، مدر ٹریسا، ملالہ یوسفزئی، نرگس محمدی اور نادیہ مراد سمیت دیگر نام شامل ہیں۔ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد اب اکیس تک پہنچ چکی ہے۔
خواتین کی اتنی کم تعداد اس بات کی عکاس ہے کہ دنیا بھر میں صنفی امتیاز، تعلیمی ناهمواری اور سماجی رکاوٹیں کس قدر گہری رہی ہیں۔ نووی پلّے کی کامیابی دنیا بھر کی ان تمام لڑکیوں کے لیے ایک امید کا پیغام ہے جو کٹھن حالات میں بھی آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی خاتون کو ملنے والا عالمی اعزاز محض انفرادی کامیابی نہیں بلکہ یہ اس طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے جو صدیوں سے مساوات اور انصاف کے لیے جاری ہے۔ اس طرح کے اعزازات سے معاشروں میں مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
نوبیل امن انعام کسی بھی قانونی تنازعے کا حتمی فیصلہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ عالمی توجہ کا رخ اہم ترین انسانی مسائل کی طرف موڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے مظلوموں کے حقوق اور جنگی جرائم کے احتساب کی آوازیں مزید توانا ہوتی ہیں۔
عالمی برادری کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور قوانین کا اطلاق تمام خطوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ تبھی اس نوعیت کے عالمی اعزازات اور اداروں کے قیام کے اصل مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔
نووی پلّے کی یہ کامیابی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب بھی کوئی شخصیت اصول پسندی اور سچائی کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کی آواز صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ پوری انسانیت کی آواز بن جاتی ہے۔





اپنی رائے دیں