خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ اس اقدام کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت ان تمام افراد کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ طویل انکوائری کے بعد کیا گیا۔ ان پر جعلی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے جو تحقیقات میں ثابت ہوئے۔
برطرفی سے قبل محکمہ صحت نے ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام متعلقہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ ان نوٹسز کے جواب میں ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کردہ وضاحتوں اور شواہد کا اعلیٰ سطح پر مکمل جائزہ لیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام ڈاکٹروں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا تھا۔ سماعت کے عمل کے دوران ان کے موقف کو سنا گیا اور انکوائری رپورٹس کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا گیا کہ ان کی ملازمتیں برقرار نہیں رکھی جا سکتیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق برطرف کیے گئے ڈاکٹروں سے سرکاری واجبات کی وصولی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ یہ رقوم ان کی غیر قانونی تعیناتی کے دوران حاصل کردہ تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں وصول کی جائیں گی۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعینات ان ڈاکٹروں کی برطرفی کا مقصد سرکاری ہسپتالوں میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ صحت کا ماننا ہے کہ جعلی اسناد پر کام کرنے والے افراد صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
صوبائی محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا جعلی دستاویزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی جو اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے ان تمام کیسز کی جانچ پڑتال کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ ان ڈاکٹروں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب صوبے میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ جعلی ڈگریوں اور غیر قانونی تقرریوں کے خاتمے سے ہسپتالوں میں نظم و ضبط بہتر ہونے کی توقع ہے۔
محکمہ صحت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کے نام پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔ تاکہ وہ کسی اور جگہ پر بھی اپنی خدمات پیش نہ کر سکیں۔
صوبائی حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ اس طرح کے اقدامات سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
خیبر پختونخوا کے عوام نے محکمہ صحت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جعلی اسناد رکھنے والے افراد کا طبی شعبے میں کوئی کام نہیں، کیونکہ ان سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے یقین دلایا ہے کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں میں تعینات عملے کی اسناد کی تصدیق کا عمل جاری رہے گا۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف اہل اور قابل ڈاکٹر ہی عوام کی خدمت پر مامور رہیں۔





اپنی رائے دیں