مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اغراض و مقاصد اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔
صدر زرداری نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی نئے بلاک کی تشکیل نہیں کی جا رہی ہے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون کو مستحکم بنانا ہے۔ پاکستان خطے میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ پرعزم رہا ہے۔
ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان اس طرح کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کا باعث بنیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود، جو ریاض میں قائم سہہ ملکی اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے، نے صدر مملکت کو معاہدے کی تفصیلات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔
یہ معاہدہ خطے کے ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں قریبی روابط استوار کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ مشترکہ سیکیورٹی خدشات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
صدر مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی تعاون کو فروغ دے کر خطے کو درپیش غیر روایتی سیکیورٹی خطرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق، یہ ملاقات پاکستان کے علاقائی دفاعی شراکت داری کے عزم کا اظہار ہے۔ پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے قیام سے خطے میں ایک نیا دفاعی ڈھانچہ تشکیل پا رہا ہے جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس معاہدے میں فعال کردار ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک علاقائی امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر صدر مملکت نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی نئی ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے دعا کی۔





اپنی رائے دیں