مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 11:57
بریکنگ
جماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہقومی گندم پالیسی 2026-30 کی منظوری، خریداری کا عمل نجی شعبے کے سپرد کرنے کا فیصلہعرفات منہاس کی کارکردگی پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل ہے، حسن نوازایکواڈور کے مشہور جڑے ہوئے جڑواں بھائی 27 برس کی عمر میں انتقال کر گئےملتان: چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی پر دو افراد کے خلاف مقدمات درجوزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو سے ملاقاتیوٹیوبر رجب بٹ اور ایمان فاطمہ کے درمیان ازدواجی تنازع شدت اختیار کر گیاسول افسران سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر فرائض انجام دیں، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہاسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم
پاکستان

اسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم

عدالت نے ڈی این اے رپورٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مجرم کو سزائے موت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

اسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایک انتہائی افسوسناک اور سنگین کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سہیل نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم افتخار پر الزام ثابت ہوا کہ اس نے اپنی سوتیلی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے مجرم کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو سرکاری خزانے میں جمع ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو دس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی کفالت اور پرورش کے لیے مجرم کو مزید بیس لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مجرم اپنی سوتیلی بیٹی کی والدہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طویل عرصے تک اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک سال تک جاری رہا جس کے بعد حقیقت سامنے آئی۔

اس کیس میں اہم پیش رفت پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ سے ہوئی۔ فرانزک ٹیسٹ کے دوران پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے مجرم افتخار سے میچ کر گیا، جس نے کیس میں ٹھوس سائنسی شواہد فراہم کیے اور مجرم کے جرم کو ثابت کیا۔

واقعے کا مقدمہ فروری 2025 میں متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جس کے بعد ٹرائل کا عمل شروع ہوا اور آج عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔

عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ جیسے جدید سائنسی طریقوں سے ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مجرمان کے خلاف سخت ترین سزاؤں کا نفاذ معاشرے میں خوف اور عبرت کا باعث بنتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

سماجی حلقوں نے بھی عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور عدالت کا یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی ایک بڑی علامت ہے۔

مذکورہ کیس میں پراسیکیوشن نے عدالت کے سامنے تمام شواہد اور گواہان پیش کیے جن کی روشنی میں جج نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور اس میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔

پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ حکومت اور عدلیہ کی جانب سے ایسے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو جلد انصاف مل سکے۔

تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس نے اس کیس کی تفتیش میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔ فرانزک شواہد کے ساتھ ساتھ دیگر گواہیوں کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا جس سے مجرم کے خلاف کیس مضبوط ہوا اور اسے سزا سنائی گئی۔

متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں نے بھی کردار ادا کیا۔ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں