امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے ایرانی دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹ کام کے ترجمان نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے یہ دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جو بین الاقوامی تجارت کے لیے ہر وقت کھلی رہتی ہے اور یہاں جہاز رانی کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے۔
سینٹ کام کے جاری کردہ بیان کے مطابق، دنیا بھر کے تقریباً 95 فیصد بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے کامیابی کے ساتھ اپنی منزلوں کی جانب گامزن رہتے ہیں۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کی بارودی سرنگوں کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران خطے میں اپنی جارحانہ کارروائیوں کے لیے میزائل اور جدید ڈرونز کا استعمال کرتا رہا ہے، تاہم اس طرح کے بے بنیاد دعوے کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی حفاظت عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جس پر امریکہ اور اس کے اتحادی گہری نظر رکھتے ہیں۔
امریکی حکام کا موقف ہے کہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنے اور بحری تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا غلط بیانی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ماضی میں بھی کشیدگی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی سکیورٹی عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے بیانات کا مقصد خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دینا ہو سکتا ہے۔ تاہم، امریکی سینٹ کام نے ان دعووں کو یکسر مسترد کر کے صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تسلسل عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا سکیورٹی خدشات عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں، اسی لیے یہ معاملہ انتہائی حساس ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ یہ وضاحت اس تناظر میں اہم ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران غلط معلومات پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔ امریکی فوج نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔
مستقبل میں بھی اس اہم آبی گزرگاہ کی نگرانی کا عمل جاری رہے گا تاکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جہاز رانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا۔





اپنی رائے دیں