مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:18
بریکنگ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہاسلام آباد میں این سی سی آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 200 چینی باشندے گرفتارامریکا کا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤسپاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون: خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفتچین: 12ویں منزل کی کھڑکی سے لٹکتی 3 سالہ بچی کو ریسکیو کر لیا گیاپاکستانی کرکٹ میں بہتری: طویل مدتی اصلاحات کی ضرورتانگلینڈ کے خلاف فتح، حسن نواز کا عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی پر اظہارِ خیالنئی آٹو پالیسی: 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقررروپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید سستا، یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں اضافہوالدہ کا شناختی کارڈ نہ ہونے پر بچے کا ب فارم کیسے بن سکتا ہے؟ نادرا کی وضاحتمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی خاتون پولیس افسر سمیت دیگر افسران کیخلاف کارروائی کی سفارشبھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ نے تنقید کے باوجود متنازع گانے بنانے کی وجہ بتا دیلاہور میں امریکی جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے والا ملزم گرفتارون ڈے سہ ملکی سیریز: پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے ہرا دیاقومی ٹیم کی شاندار کارکردگی، ٹرائی سیریز میں انگلینڈ کو شکستخیبرپختونخوا میں امن و سلامتی اولین ترجیح ہے، ثمر ہارون بلورون ڈے ٹرائی سیریز، پاکستان نے انگلینڈ کو جیت کیلیے 303 رنز کا ہدف دے دیامیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی
پاکستان

والدہ کا شناختی کارڈ نہ ہونے پر بچے کا ب فارم کیسے بن سکتا ہے؟ نادرا کی وضاحت

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ والدہ کا شناختی کارڈ نہ ہونے کی صورت میں بچے کا ب فارم بنوانے کا طریقہ کار کیا ہے۔

والدہ کا شناختی کارڈ نہ ہونے پر بچے کا ب فارم کیسے بن سکتا ہے؟ نادرا کی وضاحت

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے حکام نے شہریوں کو درپیش ایک اہم اور عام مسئلے پر تفصیلی وضاحت پیش کی ہے جس کا تعلق کم عمر بچوں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے ب فارم کے حصول سے ہے۔

معاشرے میں اکثر یہ سوال شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے بچے کی والدہ کا قومی شناختی کارڈ موجود نہ ہو تو کیا صرف والد کی دستاویزات پر ب فارم کا اجرا ممکن ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں نادرا پوڈ کاسٹ میں ادارے کے ترجمان سید شباہت علی نے اس پیچیدہ معاملے پر روشنی ڈالی اور شہریوں کو اس قانونی و انتظامی عمل کی تمام باریکیوں سے آگاہ کیا۔

ترجمان نے سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کی کہ والدہ کا شناختی کارڈ موجود نہ ہونے سے اصولی طور پر کیا مراد لی جاتی ہے کیونکہ اس کی مختلف وجوہات اور قانونی تقاضے ہو سکتے ہیں۔

اگر کسی موقع پر والدہ کا شناختی کارڈ بن چکا ہو لیکن وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ ہو تو یہ کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے جس کا کوئی حل نہ ہو۔

ایسی صورت حال میں ادارے کے پاس یہ سہولت موجود ہے کہ والدہ کی شناخت کی تصدیق ان کے شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے یا پھر بائیومیٹرک یعنی فنگر پرنٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہے۔

تاہم اس معاملے کا دوسرا رخ زیادہ سنجیدہ ہے جو اس وقت سامنے آتا ہے جب والدہ کا شناختی کارڈ کبھی جاری ہی نہ ہوا ہو اور وہ اس بنیادی دستاویز سے محر ہوں۔

حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر والدہ کا قومی شناختی کارڈ بنا ہی نہیں ہے تو ایسی صورت میں بچے کے ب فارم کے اجرا میں قانونی اور تکنیکی نوعیت کی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اس دشواری کی بنیادی وجہ خاندانی ریکارڈ کی درستگی اور اس سے متعلق تمام دستاویزات اور معلومات کا مکمل ہونا ہے جو کہ بچے کی رجسٹریشن کے لیے انتہائی لازمی قرار دی جاتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اگر والدہ کا شناختی کارڈ جاری نہیں ہوا تو اس بات کا قوی امکان موجود ہوتا ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں والدین کی شادی کا اندارج بھی موجود نہ ہو۔

جب شادی کا باضابطہ اندراج ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتا تو اس کے نتیجے میں اس خاندان کا مخصوص فیملی نمبر بھی جاری نہیں ہوتا جو کہ نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔

خاندانی نمبر جاری نہ ہونے کی وجہ سے نادرا کے سسٹم میں بچے کی پیدائش اور خاندانی شجرے کی کڑی نہیں جڑ پاتی جس کی وجہ سے ب فارم کے اجراء میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

شہریوں کے لیے یہ جاننا بھی انتہائی ضروری ہے کہ اگر ب فارم بننے کے بعد کہیں گم ہو جائے تو اس کی دوبارہ حصولیابی کا ایک آسان اور طے شدہ طریقہ کار موجود ہے۔

ادارے کی جانب سے اس طرح کی عوامی آگاہی مہمات کا مقصد عام شہریوں کو دفتری امور میں آسانی فراہم کرنا اور شناختی دستاویزات کے حصول کے دوران پیش آنے والی الجھنوں کو دور کرنا ہے۔

حکومت اور متعلقہ ادارے اس بات کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ شہریوں کے لیے نادرا کے تمام امور کو زیادہ سے زیادہ شفاف، آسان اور مربوط بنایا جائے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں