پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے فوری طور پر اہم اور ضروری اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب محض بیانات یا پروپیگنڈے پر انحصار کرنے کے بجائے حقائق اور عملی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ملکی سالمیت اور دفاع کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس ضمن میں تمام ریاستی ادارے اور متعلقہ محکمے پوری طرح مستعد ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے اندر قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت ممکن ہو سکے اور کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
سیاسی جماعتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے ناخوشگوار حالات سب کے سامنے ہیں اور اس دوران معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی اب تمام تر سرگرمیاں سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور بعض پیجز بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔
مشیر اطلاعات نے صحافی برادری کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس پیشے سے وابستہ افراد نے انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو درپیش مشکلات اور قربانیوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جانا چاہیے۔
صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے پہلے ہی روز اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں سیکیورٹی سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا پولیس کو دس بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں تاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی صلاحیتوں کو مزید بڑھایا جا سکے۔
پولیس اہلکاروں کے مورال کو بلند کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہدا کے اہل خانہ کے لیے پچاس سے زائد پلاٹس دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس فورس کی تنخواہوں اور شہدا کے مالی معاونت کے پیکیجز میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کانسٹیبل کی تنخواہ کو دوسرے صوبوں کے مساوی لایا جا سکے۔
صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر صوبے میں امن ہی نہیں ہوگا تو ترقی کا سفر بھی جاری نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے رواں سال کے دوران نو سو ساٹھ کلوگرام منشیات برآمد کی ہیں جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
پشاور شہر میں صفائی اور سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ گورنر خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی اور عوام کی آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے۔
واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور کے نظام کو زیادہ فعال اور متحرک بنانے کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے دن رات کام کر رہی ہے اور کسی بھی شعبے میں غفلتبرداشت نہیں کی جائے گی۔
تعلیمی شعبے پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں تعلیمی سہولیات کی شدید کمی کا احساس ہے اور بالخصوص میران شاہ سمیت پسماندہ علاقوں سے بچیوں نے اسکولوں کی کمی کے حوالے سے پیغامات بھیجے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں بالخصوص بچیوں کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پنجاب کے جدید اسپتالوں کی طرز پر خیبرپختونخوا میں بھی بڑے طبی مراکز قائم کرنے کے منصوبے اس وقت زیر غور ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد دور دراز علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہترین اور جدید سہولیات ان کے اپنے اضلاع میں ہی فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورہ پشاور کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اس دورے کے دوران صوبے کے لیے اہم اعلانات متوقع ہیں جو یہاں کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ آپسی تعاون سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
اختتام پر مشیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ وہ ہر ہفتے باقاعدگی سے میڈیا کے سامنے آئیں گی اور حکومت کی ہفتہ وار کارکردگی اور عوامی مفاد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے ذرائع ابلاغ کو آگاہ کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد شفافیت اور حقائق کی بنیاد پر عوام کی خدمت کرنا ہے۔





اپنی رائے دیں