مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
پنجاب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا نومولود بچوں کے طبی کلیمپ کے استعمال پر الرٹ جاریضلع خیبر میں پولیس اہلکاروں کے اغوا اور تصادم کی خبریں بے بنیاد قرارسہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، عطا تارڑملتان: جبری مشقت سے انکار پر 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیاپاکستان نے پاک ایران سرحد پر چاروں کراسنگ پوائنٹس عارضی طور پر بند کر دیےقلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدوادی کیلاش: ثقافتی تنوع اور قدیم روایات کا مسحور کن مرکزجرمنی میں پاکستان کے نئے سفیر سلمان شریف نے سفارتی اسناد پیش کر دیںلاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیاسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاقآسٹریلیا: خاتون رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمیایلون مسک کا 2027 میں امریکی بچوں کو اسپیس ایکس کے شیئرز تحفے میں دینے کا اعلانروس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکشنیب کا ڈاکٹر امجد علی سمیت 5 افراد کو طلبی کا نوٹس جاریمتحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاقانسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹایکواڈور میں چرچ کے اندر بھاری صلیب گرنے سے پادری جاں بحقروس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دیکراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ڈاکو ہلاکسعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری، فوجی کردار پر بحث تیز
پاکستان

روس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکش

روسی سفیر نے کہا ہے کہ ماسکو اسلام آباد اور کابل کے اختلافات دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

روس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکش

روس نے پاکستان اور افغانستان کے مابین موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ایک تقریب کے دوران روسی حکام کی طرف سے یہ اہم پیشکش سامنے آئی ہے جس کا مقصد خطے میں امن کا فروغ ہے۔

پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خوریف نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پاک روس تعلقات کے موضوع پر منعقدہ گول میز مباحثے سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

روسی سفیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ماسکو حکومت اسلام آباد اور کابل کے مابین پیدا ہونے والے اختلافات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اپنا بھرپور مصالحانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خطے کے امن کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

البرٹ خوریف نے پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش کے معاملے پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس بندش کی وجہ سے وسطی ایشیا اور روس کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

روسی سفیر نے امید ظاہر کی کہ دونوں دارالحکومتوں کے مابین سفارتی رابطوں کے نتیجے میں جلد سرحدیں دوبارہ کھل جائیں گی اور باہمی کشیدگی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی تاکہ تجارت بحال ہو سکے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ہفتے روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیو نے دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں پاک افغان کشیدگی کا معاملہ انتہائی نمایاں طور پر زیر بحث آیا تھا۔

یاد رہے کہ روس اور افغانستان کے باہمی تعلقات کے حوالے سے اہم پیشرفتیں سامنے آ چکی ہیں اور گزشتہ برس روس نے افغان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا جو ایک اہم سفارتی قدم تھا۔

رواں سال کے دوران مئی کے مہینے میں روس اور افغانستان نے باضابطہ طور پر ایک فوجی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے پر دستخط بھی کیے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی نوعیت کے امور پر تعاون بڑھ رہا ہے۔

اگرچہ طالبان حکومت کے ساتھ ماسکو کا نقطہ نظر بسا اوقات پاکستان کے مؤقف سے مختلف رہا ہے تاہم اس کے باوجود اسلام آباد نے علاقائی امن کے لیے ہر ممکن سفارتی دروازہ کھلا رکھا ہے۔

دفتر خارجہ کے حکام اور ترجمان کی طرف سے وقتاً فوقتاً یہ بات واضح کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان افغانستان اور وسیع تر علاقائی سکیورٹی کے تناظر میں روس کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

پیر کے روز منعقدہ اس گول میز مباحثے میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی خصوصی شرکت کی اور دوطرفہ تعلقات کے وسعت پذیر دائرہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

پاکستانی سفیر نے اپنے خطاب میں پاک روس تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور عملی میدان میں حائل تمام تر رکاوٹوں کو بتدریج دور کرنے کے لیے جاری کوششوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔

علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی جانب سے یہ ثالثی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راہداریوں کو فعال رکھنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں