مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
حج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہاسلام آباد میں این سی سی آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 200 چینی باشندے گرفتاربرطانوی اداکار رسل برینڈ کے خلاف ریپ کے مقدمے کی سماعت جاریلاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتاربولی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ: اصل ہدف کوئی اور تھا، کرائم برانچ کا انکشافاسرائیلی قومی سلامتی کا نیا نقشہ: نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سوالاتسعودی عرب میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر دو غیر ملکیوں کو سزائے موتعرفات منہاس کا انگلینڈ کیخلاف شاندار کارکردگی پر اہم اعزاز اپنے نامآن لائن فراڈ میں اضافہ: نوجوان نسل کو محتاط رہنے کی تنبیہسوشل میڈیا پر وائرل ‘اکتوبر تھیوری’ کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟امریکا کا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤسپاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون: خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفتچین: 12ویں منزل کی کھڑکی سے لٹکتی 3 سالہ بچی کو ریسکیو کر لیا گیاپاکستانی کرکٹ میں بہتری: طویل مدتی اصلاحات کی ضرورتانگلینڈ کے خلاف فتح، حسن نواز کا عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی پر اظہارِ خیالنئی آٹو پالیسی: 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقررروپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید سستا، یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں اضافہ
دنیا

آبنائے ہرمز میں جہاز ڈوبنے کے بعد ’سمندری آئی فون‘ کی فروخت کے نام پر دھوکہ دہی کا انتباہ

ایرانی سائبر پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سمندر برد ہونے والے سامان کی آڑ میں سستے فونز کی فروخت ایک فراڈ ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جہاز ڈوبنے کے بعد ’سمندری آئی فون‘ کی فروخت کے نام پر دھوکہ دہی کا انتباہ

حال ہی میں آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ کے ڈوبنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاز کے حادثے کے بعد سمندر میں تیرتے ہوئے کنٹینرز اور سامان کی تصاویر وائرل ہوئیں، جس کے بعد آن لائن پلیٹ فارمز پر ’سمندری آئی فون‘ کی فروخت کے اشتہارات کی بھرمار ہو گئی۔

ان اشتہارات میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈوبنے والے جہاز سے ملنے والے آئی فونز، بشمول آئی فون 18، انتہائی کم قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ایرانی سائبر پولیس (فتا) نے ان دعووں کو مشکوک قرار دیتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی پیشکشوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔

فتا پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ کچھ اصلی فونز سمندر میں گرے ہوں، لیکن کھارے پانی اور شدید نمی کے باعث ان کے اندرونی پرزے، بیٹری اور ڈسپلے بری طرح متاثر ہو چکے ہوں گے۔ نمک کے اثر سے الیکٹرانک سرکٹس میں زنگ لگنے سے فونز کی کارکردگی ختم ہو جاتی ہے۔

حکام نے مزید وضاحت کی کہ خریداروں کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے یہ وارننگ جاری کی گئی ہے۔ اکثر دھوکہ باز سستی اشیا کا لالچ دے کر پیشگی رقم یا بیعانہ وصول کر لیتے ہیں اور بعد ازاں خریدار سے رابطہ منقطع کر دیتے ہیں، جس سے شہری اپنی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

سنگاپور میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ ایک نامعلوم میزائل نما شے سے ٹکرانے کے بعد حادثے کا شکار ہوا، تاہم اس کے تمام 21 عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے جہاز کے کارگو کی تفصیلات پر ابہام پایا جاتا ہے۔

اس حوالے سے مختلف رپورٹس میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایرانی بحریہ کا دعویٰ ہے کہ جہاز ایک غیر مجاز راستے پر تھا اور بحری بارودی سرنگ سے ٹکرایا، جبکہ دیگر ذرائع نے اسے میزائل حملے کا نتیجہ قرار دیا۔ تاحال جہاز کے سامان کی کوئی مستند فہرست جاری نہیں کی گئی ہے۔

عمان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بھی ساحلی علاقوں کے قریب رہنے والوں اور ماہی گیروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سمندر میں تیرتے ہوئے کنٹینرز کے قریب نہ جائیں۔ ان کنٹینرز میں خطرناک مواد موجود ہو سکتا ہے جو انسانی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

آن لائن فیکٹ چیکنگ یونٹس نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ ’سمندری آئی فون‘ کے نام پر جو تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ان میں سے زیادہ تر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی ہیں یا انہیں ایڈٹ کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ڈوبے ہوئے جہاز سے ملنے والی الیکٹرانک اشیا کا استعمال تکنیکی اعتبار سے غیر محفوظ ہے۔ سمندری پانی کے اثرات سے فونز میں پوشیدہ خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو کچھ عرصے بعد ظاہر ہوتی ہیں، جس سے خریدار کو مرمت پر مزید اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے اس صورتحال پر ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ جہاں کچھ لوگ اسے ایک دلچسپ واقعہ سمجھ کر شیئر کر رہے ہیں، وہیں باشعور صارفین نے اسے ایک قانونی اور اخلاقی مسئلہ قرار دیا ہے اور حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آن لائن خرید و فروخت کے پلیٹ فارمز نے بھی اپنی ویب سائٹس سے ایسے مشکوک اشتہارات کو ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ فراڈ کرنے والوں کا راستہ روکا جا سکے۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم اور سستی پیشکش پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کریں۔ کسی بھی آن لائن خریداری سے قبل تصدیق کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب معاملہ سمندر برد ہونے والی اشیا کا ہو جن کی کوئی قانونی ضمانت نہیں ہوتی۔

فتا پولیس کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب سربراہ جواد مختاررضایی نے تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھوکہ باز سستی اشیا کی عوامی خواہش کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ بیعانہ یا ترسیل کے اخراجات کے نام پر رقم بٹور کر خریدار سے رابطہ منقطع کر دیتے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں