اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی فوج کے سب سے طاقتور غیر جوہری ہتھیار 'مدر آف آل بم' کے نام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی تباہ کن ہتھیار کے ساتھ 'ماں' جیسا مقدس لفظ جوڑنا ایک وحشیانہ تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔
پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے اس طرح کے ناموں کا سہارا لے رہی ہے، تاہم یہ ہتھکنڈے ایرانی عوام کے حوصلوں کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور جی بی یو-43 بی (MOAB) جیسے ہتھیاروں کے استعمال کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ایران نے ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی نگراں وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا نے بھی اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بموں کے سائز یا ناموں سے زیادہ ان کے نتائج اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا خمیازہ واشنگٹن کو عالمی سطح پر بھگتنا پڑے گا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں نے خطے میں اسٹریٹجک توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکام کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کی طاقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ دراصل اپنی عالمی حیثیت کو بچانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ تہران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے قومی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ امریکی فوج کے پاس موجود یہ بم اپنی تباہ کن صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے، جسے ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم ایران نے ان ہتھیاروں کو اپنی دفاعی حکمت عملی کے سامنے غیر مؤثر قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ لفظی جنگ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا حصہ ہے۔ ایران کا یہ ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ایرانی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل اسی قوم کا ہے جو دشمن کے خطرات کو سنجیدگی سے لینے کے ساتھ ساتھ اپنی داخلی طاقت پر بھروسہ رکھتی ہے۔ تہران کی جانب سے دفاعی خود انحصاری پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے تاحال ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ عالمی برادری بھی اس کشیدگی کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، ملک کی میزائل صلاحیتیں اب اتنی جدید ہو چکی ہیں کہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل استعداد رکھتی ہیں۔ یہ دفاعی طاقت ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔
مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین یہ کشیدگی معاشی اور سیاسی محاذوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی معیشت اور انتخابی حساب کتاب پر اثرات کی بات کرنا اس تنازع کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر، ایران نے امریکی فوجی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔





اپنی رائے دیں