راولپنڈی میں جاری سہ ملکی ون ڈے کرکٹ سیریز کے دوران سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے والا ڈولفن فورس کا ایک اہلکار اپنی ہی رائفل سے حادثاتی طور پر گولی چلنے کے باعث زخمی ہو گیا ہے۔ واقعے کے فوری بعد اسے طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق زخمی ہونے والا اہلکار ڈبل روڈ سے فیض آباد تک کے روٹ پر سیکیورٹی کے لیے پٹرولنگ ڈیوٹی پر مامور تھا۔ گشت کے دوران اہلکار کی رائفل اچانک زمین پر گر گئی، جس کے بعد اس نے فوری طور پر رائفل اٹھا کر حفاظتی اقدامات کے تحت میگزین الگ کر دیا۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ رائفل زمین پر گرنے کے باعث لوڈ ہو گئی تھی اور گولی چیمبر تک پہنچ گئی تھی۔ اہلکار نے چیمبر کو خالی کرنے اور احتیاطی جانچ کے لیے رائفل کا رخ زمین کی جانب کیا اور ٹریگر دبایا، جس کے نتیجے میں اچانک فائر ہو گیا۔
چلنے والی گولی اہلکار کے پاؤں میں لگی، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمی اہلکار کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال میں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
سیکیورٹی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ رائفل گرنے کے بعد تکنیکی طور پر کس طرح لوڈ ہوئی۔ اس دوران کرکٹ سیریز کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات معمول کے مطابق جاری رکھے گئے ہیں اور روٹ پر گشت کا عمل بھی جاری ہے۔
راولپنڈی میں جاری یہ سہ ملکی سیریز پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان کھیلی جا رہی ہے۔ اس اہم ایونٹ کے پیش نظر شہر بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈولفن فورس کے اہلکار شہر کی اہم شاہراہوں اور کرکٹ کے روٹس پر مسلسل گشت کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہوتا ہے، جس کے لیے وہ جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہوتے ہیں۔
اس قسم کے حادثات سیکیورٹی اہلکاروں کی تربیت اور ہتھیاروں کے ہینڈلنگ کے حوالے سے ایس او پیز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈیوٹی کے دوران انتہائی احتیاط برتیں اور ہتھیاروں کے استعمال میں مکمل مہارت کا مظاہرہ کریں۔
واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں اس واقعے کو ایک تکنیکی غلطی اور حادثہ قرار دیا گیا ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت یا بدنیتی شامل نہیں ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کرکٹ سیریز کے دوران کسی بھی قسم کی سیکیورٹی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے تمام اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی کے دوران الرٹ رہنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہ مکمل طور پر تیار رہیں۔
اس سہ ملکی سیریز کے دوران پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی پر بھی شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ٹیم کے کھلاڑیوں نے اب تک شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے شائقین کرکٹ میں جوش و خروش پایا جاتا ہے اور سٹیڈیم میں بڑی تعداد میں لوگ میچ دیکھنے پہنچ رہے ہیں۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود، اس طرح کے حادثات سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایک چیلنج ہوتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکار کی صحت یابی کے لیے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور اس کے اہل خانہ کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہتھیاروں کی ہینڈلنگ کے حوالے سے مزید ریفریشر کورسز کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کرکٹ سیریز کے باقی میچوں کے لیے سیکیورٹی کا پلان پہلے سے زیادہ مستحکم اور موثر بنایا جائے گا۔





اپنی رائے دیں