بالی ووڈ کے معروف اداکار اور سابق وی جے رنویر شورے کو حال ہی میں اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک سیاسی جماعت کے احتجاجی طریقہ کار پر کھل کر تنقید کی۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔
اداکار نے ان تمام دھمکی آمیز پیغامات کے اسکرین شاٹس معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش کیے۔ اس واقعے کے بعد شوبز حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید ہلچل مچ گئی ہے اور مداحوں کی جانب سے اداکار کی سلامتی کے لیے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رنویر شورے کی جانب سے شیئر کیے جانے والے مواد کے مطابق، انہیں موصول ہونے والی ای میلز میں دعویٰ کیا گیا کہ بھیجنے والے افراد ان کی نقل و حرکت پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان دھمکی آمیز پیغامات میں یہ بھی کہا گیا کہ مناسب وقت آنے پر اداکار پر جان لیوا حملہ کیا جائے گا۔
ان سنگین دھکیوں کے بعد اداکار نے فوری طور پر بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سائبر حکام اور ممبئی پولیس سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں متعلقہ سائبر کرائم کے اداروں کو ٹیگ کرتے ہوئے اس پورے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ممبئی پولیس کے آفیشل ہینڈل نے اس معاملے پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اداکار سے رابطہ کیا اور انہیں نجی پیغام کے ذریعے اپنے رابطے کی تمام تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس شکایت پر قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس کی جانب سے اس سرعت اور تعاون پر اداکار نے ان کا شکریہ ادا کیا اور تصدیق کی کہ وہ اس حوالے سے باضابطہ قانونی شکایت بھی درج کرا چکے ہیں۔ اس معاملے کی قانونی حیثیت اور تحقیقات کے حتمی نتائج کا فی الحال انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ تمام تر تنازع اس وقت شروع ہوا جب رنویر شورے نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آئینی راستے اپنانے چاہئیں۔
اداکار کا مؤقف تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی طاقت کا مظاہرہ سڑکوں پر احتجاج کی بجائے پارلیمنٹ اور ووٹ کے ذریعے کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں ہر قسم کے مسائل کے حل کے لیے آئین اور قانون میں واضح راستے موجود ہیں۔
رنویر شورے نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا تھا کہ اگر کسی بھی شہری یا سیاسی دھڑے کو انتخابی عمل میں کوئی ناانصافی نظر آئے تو اسے سڑکوں پر نکلنے کے بجائے عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان کے اس بیان کو سیاسیحلقوں میں خاصی پذیرائی ملی لیکن کچھ عناصر کی طرف سے اس پر شدید ردعمل بھی آیا۔
بھارتی فلمی صنعت میں فنکاروں کی جانب سے ملکی سیاسی و سماجی صورتحال پر کھل کر رائے کا اظہار کرنے کا رجحان نیا نہیں ہے۔ تاہم اس قسم کے بیانات پر بعض اوقات انتہا پسند عناصر کی جانب سے سخت ردعمل اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رنویر شورے نے اپنے طویل فلمی کیریئر میں متعدد سنجیدہ اور یادگار کردار ادا کیے ہیں اور وہ اپنی بے باک رائے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ان کے چاہنے والے سوشل میڈیا پر ان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
معروف شخصیات کو اس طرح کی دھمکیاں ملنا آن لائن سکیورٹی اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سائبر کرائم کے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اور دھمکیاں دینے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ممبئی پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ یہ دھمکی آمیز ای میلز کس مقام سے اور کس نے ارسال کی ہیں۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ سائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان تک جلد رسائی حاصل کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





اپنی رائے دیں