مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:17
بریکنگ
پاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہپی ٹی آئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقویکوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید میجر حسنین اور کیپٹن عبدالصمد کی نمازِ جنازہ ادابرازیلی وفد کی پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سربراہان سے ملاقاتیںکراچی میں مختلف حادثات، بزرگ شہری سمیت دو افراد جاں بحقخیبر پختونخوا میں امن کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے، طارق فضل چوہدریبرازیلی مسلح افواج کے وفد کی نیول اور ایئر چیفس سے اہم ملاقاتیںوزیر دفاع خواجہ آصف سے برازیل کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی ملاقاتجمہوریت کو ری بوٹ کرنے اور نئی ٹیم کو کارکردگی دکھانا ہوگی: فیصل واوڈانووی پلّے کو 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلانسعودی عرب نے یمن جنگ میں اسرائیلی شمولیت کی پیشکش مسترد کر دیٹرمپ کی حوثیوں کو دھمکی، انتخابات کے بعد دیکھ لینے کا اعلاناسرائیل نے یونان کو بائیس قدیم اور تاریخی نوادرات واپس کر دیےسعودی عرب میں ریاض میٹرو کی توسیع، اربوں ریال کی نئی ٹرینوں کا معاہدہسعودی کابینہ کا حوثیوں کو وارننگ، یمن میں اتحادی کارروائیوں کی حمایتسوشل میڈیا پر طویل ویڈیوز سے مختصر کلپس بنا کر لاکھوں کمانے کا رجحانپی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرتی تو ایمرجنسی نہ لگاتے، رانا ثنااللہخیبر اور سوات میں کارروائیاں، پرتشدد واقعات میں درجنوں افراد گرفتاربھارتی اداکار رنویر شورے کو سی جے پی کے احتجاج پر تنقید پر جان کی دھمکیاںنیٹ فلکس نے 2030 فٹبال ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کرلیے
دنیا

بھارت: شادی کی تقریب میں انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کے خلاف انوکھا احتجاج

حیدرآباد دکن میں باراتیوں نے روایتی دف اور بینڈ کی تھاپ پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔

بھارت: شادی کی تقریب میں انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کے خلاف انوکھا احتجاج

بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جاری احتجاج کا دائرہ کار اب شادی کی تقریبات تک بھی پھیل چکا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں ایک انوکھا منظر دیکھنے میں آیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حیدرآباد دکن میں ایک شادی کے استقبالیہ کے دوران شرکا اور باراتیوں نے روایتی انداز میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

یہ غیر معمولی احتجاج اس وقت سامنے آیا جب باراتیوں نے روایتی دف اور مرّفا بینڈ کی تھاپ پر نعرے بازی شروع کر دی۔ شرکا نے انتخابی فہرستوں پر نظرِ ثانی کے عمل کو فوری طور پر روکنے اور اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

مظاہرین کا بنیادی مطالبہ تھا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی کے عمل کو مکمل طور پر معطل کیا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ان کے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے اس انوکھے احتجاج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح خوشی کے موقع کو احتجاجی رنگ دے دیا گیا۔

وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں معروف سماجی کارکن طلحہ صلاح کو بھی مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی قیادت میں شرکا نے اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور نعرے بلند کیے۔

بھارت میں ان دنوں مختلف سیاسی جماعتوں، اپوزیشن رہنمائوں اور نوجوانوں کی جانب سے انتخابی عمل اور قواعد و ضوابط پر شدید اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

دارالحکومت نئی دہلی کے مشہور مقام جنتر منتر سمیت کئی دیگر شہروں میں بھی اس نوعیت کے احتجاجی مظاہرے منعقد ہو چکے ہیں۔ اب ان احتجاجی سرگرمیوں کی بازگشت اور اثرات دیگر شہروں تک بھی پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔

حیدرآباد کی اس شادی کی تقریب میں ہونے والا احتجاج اس لحاظ سے بالکل مختلف اور غیر معمولی قرار دیا جا रहा ہے کہ خوشی کے تہوار کو سیاسی و انتظامی مطالبات کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا۔

روایتی موسیقی اور بینڈ کی دھنوں کے ساتھ انتخابی مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرنے کے اس انداز نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ فوری طور پر اپنی جانب کھینچ لی ہے۔

انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے اس ویڈیو پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں اور یہ موضوع اس وقت بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے انوکھے احتجاج عوامی سطح پر پائے جانے والے شدید ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔

انتخابی فہرستوں کے اس متنازعہ عمل کو مقامی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق حیدرآباد دکن میں پیش آنے والا یہ واقعہ بھارت میں بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی کشیدگی کی ایک نئی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اس طرح کے عوامی مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام اپنے جمہوری اور انتخابی حقوق کے تحفظ کے لیے اب روایتی پلیٹ فارمز کے علاوہ دیگر تخلیقی اور انوکھے طریقوں کا بھی کھل کر استعمال کر رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں اس نوعیت کی احتجاجی لہر کے مزید پھیلنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے الیکشن کمیشن پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ انتظامیہ کے لیے بھی ایسے واقعات سے نمٹنا ایک نیا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں