برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے سربراہ سر کین میکلم نے دارالحکومت لندن میں اپنے سالانہ خطاب کے دوران برطانیہ کو درپیش سکیورٹی خدشات کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے طویل عرصے کے دوران بیرونی دشمنوں سے متعلقہ خطرات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ خطرات چار گنا تک بڑھ چکے ہیں۔
سر کین میکلم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ روس اس وقت برطانیہ کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا اور بنیادی ریاستی خطرہ بنا ہوا ہے اور ماسکو کی جانب سے مسلسل ایسی سرگرمیاں جاری ہیں جو یورپی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔
برطانوی خفیہ ادارے کے سربراہ کے مطابق روسی سرگرمیوں کا بنیادی محور سائبر حملے، تخریب کاری اور غلط معلومات پھیلانا ہے تاکہ جمہوری ممالک کے اندرونی نظام کو کمزور کیا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی کو ہوا دی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ یوکرین پر روسی فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے تقریبا ایک ہزار روسی خفیہ اہلکاروں کو ملک بدر کیا گیا تھا جس کے بعد ماسکو کی روایتی خفیہ کارروائیوں کی صلاحیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
سر کین میکلم کا کہنا تھا کہ روایتی اہلکاروں کی ملک بدری کے نتیجے میں اب روس اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مجرمانہ عناصر کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے تاکہ اپنے جاسوسی اور تخریب کاری کے نیٹ ورک کو فعال رکھ سکے۔
روسی سرگرمیوں کے علاوہ برطانوی حکام نے ایران سے جڑے ہوئے سکیورٹی خدشات کا بھی کھل کر اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایرانی سرگرمیوں کے تناظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سخت اقدامات کیے ہیں۔
برطانوی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ ایرانی سرگرمیوں کے تناظر میں گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر پچاس گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جن کا بنیادی ہدف برطانیہ میں موجود یہودی اور اہم فوجی تنصیبات تھیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گلوسٹرشائر میں واقع ایک حساس فضائی اڈے کے قریب مشتبہ حالت میں گاڑیاں کھڑی کرنے کے معاملے میں بھی سات افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
برطانوی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو بھی ایک ابھرتا ہوا اور سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور انتباہ جاری کیا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے سکیورٹی کے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔
سر کین میکلم نے واضح کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور عناصر اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنی نگرانی، حملوں کی منظم منصوبہ بندی اور ڈرونز کے استعمال کے لیے بروئے کار لانے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں جس پر اداروں کی گہری نظر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے تناظر میں مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال حیاتیاتی ہتھیاروں کے خطرات میں بھی ہوشربا اضافہ کر سکتا ہے، اس لیے اس ابھرتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان تمام ابھرتے ہوئے اور پیچیدہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے ایک نیا خصوصی مرکز بھی قائم کر دیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے شعبے پر توجہ مرکوز رکھے گا۔
ملکی سطح پر اندرونی سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے برطانوی خفیہ ایجنسی کے چیف نے بتایا کہ برطانیہ کے اندر انتہائی دائیں بازو کی دہشت گردی کے رجحانات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو کہ ایک اہم داخلی مسئلہ ہے۔
انہوں نے خاص طور پر نوجوان نسل کا ذکر کیا جو انٹرنیٹ پر موجود مختلف انتہا پسندانہ مواد سے تیزی سے متاثر ہو رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انٹلیجنس ادارے اس آن لائن انتہا پسندی کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے انھی سکیورٹی خطرات کے پیش نظر رواں برس اپریل کے مہینے میں برطانیہ کے اندر دہشت گردی کے خطرے کے درجے کو بڑھا کر شدید کر دیا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ حملے کا امکان بہت زیادہ ہے۔





اپنی رائے دیں