ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے لیے انسانی حیاتیاتی مواد اور صحت سے متعلق ڈیٹا بیرون ملک منتقل کرنے کے حوالے سے سخت اور نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
جاری کردہ مراسلے کے مطابق اب کسی بھی قسم کے انسانی حیاتیاتی مواد کو بیرون ملک بھیجنے سے قبل قومی بایوایتھکس کمیٹی سے باقاعدہ تحریری اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے بغیر منتقلی ممکن نہیں ہوگی۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا اطلاق خون کے نمونوں، انسانی ٹشوز، ڈی این اے اور انسانی خلیات سمیت صحت سے متعلق تمام اہم ڈیٹا پر ہوگا جو تحقیقی یا دیگر مقاصد کے لیے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ انسانی حیاتیاتی مواد کی غیر مجاز منتقلی نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے بلکہ اس سے ملک کے قیمتی جینیاتی وسائل کے ضیاع کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔
صحت سے متعلق ڈیٹا کی غیر منظم اور غیر محفوظ شیئرنگ کے حوالے سے بھی ایچ ای سی نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے شہریوں کی نجی معلومات کے افشا ہونے اور ان کی رازداری متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
ایچ ای سی نے تمام جامعات کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی یا قومی مفادات کو نقصان پہنچنے سے بچا جا سکے۔
مراسلے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کسی بھی تعلیمی یا تحقیقی ادارے نے قومی بایوایتھکس کمیٹی کے طے کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک کی سائنسی اور حیاتیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر ڈیٹا کے تبادلے کو ایک منظم اور قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق انسانی حیاتیاتی مواد کا تحفظ جدید دور میں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ ہے، کیونکہ جینیاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کسی بھی قوم کی آبادیاتی اور طبی سلامتی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
ایچ ای سی کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بائیو ٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق میں تیزی آ رہی ہے اور ڈیٹا کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سطح پر سخت قوانین وضع کیے جا رہے ہیں۔
تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے داخلی نظام کو ایچ ای سی کی نئی پالیسی کے مطابق ہم آہنگ کریں تاکہ تحقیق کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے اور قانونی تقاضے بھی پورے ہوں۔
قومی بایوایتھکس کمیٹی اب ان تمام درخواستوں کا جائزہ لے گی جو انسانی حیاتیاتی مواد کی بیرون ملک منتقلی کے لیے موصول ہوں گی، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ عمل اخلاقی اور قانونی حدود کے اندر ہو۔
اس فیصلے کا مقصد تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں شفافیت کو فروغ دینا ہے تاکہ پاکستان کے جینیاتی وسائل اور شہریوں کی حساس معلومات کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔




اپنی رائے دیں