امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں ایک اہم اور بڑی پیشرفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے مابین رابطوں اور مذاکرات کا عمل ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے جڑے ان امور پر بھی بات چیت کرنے پر مکمل آمادگی ظاہر کر دی ہے جو اب تک باضابطہ مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے تھے۔
مذاکرات کے عمل سے قریبی طور پر باخبر ایک سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک اس تنازع اور جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں کسی ممکنہ پیشرفت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
مذکورہ سفارت کار نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ تہران اس وقت اپنی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق قطر کی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کا انتہائی غور اور خلوص کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے۔
رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اس حساس ترین مسئلے پر ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی نرمی، لچک یا رعایت دونوں ملکوں کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک بہت بڑی اور فیصلہ کن پیشرفت کی بنیادی وجہ بن سکتی ہے۔
اس تمام پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی غرض سے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں حال ہی میں امیر قطر کے ساتھ ٹیلی فون پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ موقف تسلسل کے ساتھ اختیار کرتے رہے ہیں کہ اس پورے تنازع کا بنیادی اور اصل مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے سختی کے ساتھ روکنا ہے۔
دوسری طرف تہران کا ہمیشہ سے اور روایتی طور پر یہی مؤقف چلا آ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور صرف اور صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کی جانب سے اپنی جوہری سرگرمیوں میں مزید شفافیت لانے کی کوئی بھی یقین دہانی اس تعطل کا شکار امن عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہو سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمراں ریپبلکن پارٹی کو سیاسی حریف ڈیموکریٹس کے ہاتھوں شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
تجزیہ کار اس انتخابی نتائج کو اس تنازع اور جنگ کے جلد از جلد خاتمے کے لیے امریکی صدر کی شدید خواہش کا ایک واضح اشارہ بھی قرار دے رہے ہیں۔
قطر کی ثالثی کی یہ کوششیں اور امریکا کا اس میں مثبت ردعمل خطے کے امن کے حوالے سے خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور دونوں اطراف سے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔


اپنی رائے دیں