امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں حکمران ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جاری جنگ ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں جے ڈی وینس نے لکھا کہ پارٹی کی ناکامی کی اصل وجہ جنگ ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا۔
نائب صدر نے کہا کہ اگر کوئی یہ دلیل دینا چاہتا ہے کہ اگلے 6 سال کے لیے سینیٹ کی اکثریت کھونا ایک مناسب قیمت تھی تو وہ یہ موقف اپنا سکتا ہے، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دینے والے اہم ووٹرز نے 2026 کے مڈ ٹرم میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔
جے ڈی وینس کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایران جنگ، معاشی مشکلات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کی خواہش ووٹرز کے فیصلے پر اثر انداز ہوئی۔
امریکی ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس طویل عرصے سے امریکی فوجی مداخلت کے ناقد رہے ہیں اور وہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر بھی تحفظات رکھتے تھے۔
انتخابات میں ریپبلکنز کی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ناکامی کے بعد 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے جے ڈی وینس کی صدارتی دوڑ میں پوزیشن متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
منگل کے روز ہونے والے انتخابات میں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو شدید سیاسی جھٹکا دیا ہے۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک قائد چک شومر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
چک شومر کا کہنا تھا کہ کانگریس کے پاس موجود مالیاتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صدر کو امریکی عوام کی منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی عوام کو ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران میں جنگ کس مقصد کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی وائٹ ہاؤس نے انتخابات کے بعد ایکس پر ایک پیغام جاری کیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ پیغام دیا گیا کہ ٹرمپ اب بھی ملک کے صدر ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اس پیغام کے باوجود ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اکثریت ملنے کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے نئی قانون سازی اور اہم تقرریوں کی منظوری مشکل ہو جائے گی۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ووٹرز میں مہنگائی، ٹیرف اور ایران جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافے سے شدید بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وی ٹو کے اختیار کو استعمال کرنے کا اشارہ دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں وائٹ ہاؤس اور نئی ڈیموکریٹک اکثریت والی کانگریس کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کا امکان ہے۔



اپنی رائے دیں