ماسکو کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے جن میں روس پر انٹرنیٹ کے ذریعے یہود دشمن مہم چلانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ روسی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو حیران کن اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان طویل تاریخی تعلقات موجود ہیں اور ایسے میں ایک ذمہ دار ملک کے سربراہ کی جانب سے اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کرنا انتہائی افسوسناک اور ناقابل فہم ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ روس میں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی، امن اور باہمی احترام کو فروغ دینا حکومتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں یہود دشمنی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل خود بھی ماضی میں متعدد بار اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ روس میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کو مکمل تحفظ حاصل ہے، لہذا روس کو کسی بھی قسم کی نفرت انگیز مہم سے جوڑنے کی کوششیں حقائق کے منافی ہیں۔
ماسکو نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے الزامات دونوں ممالک کے مابین قائم دیرینہ تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں، جبکہ روس ہمیشہ سے عالمی سطح پر مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اس ردعمل میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ روس کسی بھی قسم کی نسلی یا مذہبی منافرت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا اور نہ ہی ایسی کسی مہم کا حصہ بننے کا تصور کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے تھے جب عالمی سطح پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماسکو نے ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔
ماسکو کا یہ موقف عالمی برادری کے سامنے بھی رکھا گیا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ روس پر لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔
روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان کے آخر میں امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اپنے بیانات میں احتیاط سے کام لے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے غیر ضروری تنازعات سے گریز کیا جائے گا۔
مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہ سکیں۔
روس کی جانب سے جاری کردہ یہ بیان نہ صرف اسرائیلی قیادت کے لیے ایک پیغام ہے بلکہ ان تمام حلقوں کے لیے بھی ہے جو روس کی خارجہ پالیسی اور داخلی صورتحال کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


اپنی رائے دیں