مواد پر جائیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 15 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:17
بریکنگ
کراچی: جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندوں کی گرفتاریوں پر امیر شہر کا ردعملاسلام آباد: اپنے بچوں کی نازیبا ویڈیوز فروخت کرنے والا سفاک باپ گرفتاروفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اہم دورے پر کراچی پہنچ گئےامریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہغزہ: اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والی کمسن فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لا سکیانگلینڈ کیخلاف فتح پر صدر مملکت، وزیراعظم اور چیئرمین پی سی بی کی قومی ٹیم کو مبارکبادخیبر پختونخوا: طالبان سے مذاکرات کا بیان ملک خان مرجان کی ذاتی رائے ہے، صوبائی حکومتکراچی: نارتھ کراچی میں پانی کی فراہمی کے ساتھ ہی بجلی غائب، مکینوں کا احتجاج کا اعلانکراچی: خواجہ اجمیر نگری میں پولیس سے مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو ہلاکمعیشت کی بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، رانا تنویر حسینایران سفارت کاری کے لیے تیار مگر جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں: اسماعیل بقائیدبئی: خودکار ٹیکسیوں کے تجربات، اہم شاہراہ اور ٹنل 6 روز کیلئے بندسوشل میڈیا پر وائرل گھنی مونچھوں والے نومولود کی ویڈیو حقیقت یا فریب؟گولارچی: کتے کے کاٹنے سے متاثرہ 6 سالہ بچہ ویکسینیشن میں غفلت کے باعث جاں بحقنادرا شناختی کارڈ کی پرنٹنگ کے بعد کوالٹی کنٹرول کا عمل لازمی قراربرازیل میں صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو میں سخت مقابلہروبسن انٹرنیشنل نے لاہور اسمارٹ سٹی پولو ان پنک ٹورنامنٹ جیت لیاقذافی اسٹیڈیم میں سہ ملکی سیریز: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا دورہکراچی انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ: مصری کھلاڑیوں کا راج، ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئی
دنیا

غزہ: اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والی کمسن فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لا سکی

آٹھ سالہ فاطمہ البیوک 2023 میں اپنے پورے خاندان کو کھونے کے بعد زندہ بچ جانے والی اکلوتی فرد تھی جو اب اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہو گئی۔

غزہ: اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والی کمسن فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لا سکی

غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایک اور معصوم زندگی کا چراغ گل ہو گیا ہے۔ آٹھ سالہ فاطمہ البیوک، جو چند روز قبل وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی تھی، ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔

فاطمہ البیوک کی شہادت کی خبر نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہید بچی کو ان کے قریبی رشتہ داروں نے انتہائی رنج و غم کے ماحول میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ اس المناک واقعے نے ایک بار پھر غزہ میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔

فاطمہ البیوک کی کہانی انتہائی دردناک ہے۔ اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے دوران اس بچی نے اپنے خاندان کے تمام افراد کو کھو دیا تھا۔ حملے کے دو روز بعد، امدادی کارکنوں نے اسے ملبے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالا تھا، جس کے بعد اسے اس کی دادی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے اس واقعے نے ایک ایسی بچی کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جو پہلے ہی جنگ کے ہولناک اثرات سے گزر چکی تھی۔ فاطمہ کا زندہ بچ جانا ایک معجزہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وہ بھی اسرائیلی جارحیت کا شکار ہو گئی ہے۔

غزہ میں جاری اس طویل جنگ کے دوران اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان اعداد و شمار میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں جو براہ راست حملوں کا نشانہ بنے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے، تاہم زمینی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ غزہ کا تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس سے انسانی زندگی کا گزارہ ناممکن ہو گیا ہے۔

گزشتہ سال ہونے والی عارضی جنگ بندی کے باوجود، اسرائیلی کارروائیاں تھم نہ سکیں۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک مزید 1500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں فاطمہ البیوک جیسی معصوم بچیاں بھی شامل ہیں جو محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں تھیں۔

فاطمہ کی شہادت نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو ایک بار پھر متوجہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بچی کی کہانی کو شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں لوگ اس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے سانحے اور اس کی اپنی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔

غزہ میں طبی سہولیات کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے زخمی ہونے والے افراد کو بروقت علاج فراہم کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ فاطمہ البیوک کی موت بھی اسی بحران کا ایک حصہ ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ فلسطینی عوام اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہر گزرتا دن ایک نئی آزمائش اور ایک نئے سانحے کو جنم دے رہا ہے۔

فاطمہ البیوک کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ چاہے وہ رہائشی علاقے ہوں یا پناہ گزین کیمپ، اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور بمباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

فلسطینی حکام نے عالمی عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا نوٹس لیں اور اسرائیل کو ان جرائم سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ فاطمہ جیسی ہزاروں بچیوں کے خون کا حساب لینا عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

آنے والے دنوں میں غزہ کی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سردی کے موسم کی آمد اور خوراک و پانی کی قلت نے پہلے سے متاثرہ آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ فاطمہ البیوک کی شہادت اس جنگ کے متاثرین کے لیے ایک علامت بن گئی ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں