سندھ کے علاقے گولارچی میں سگ گزیدگی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 6 سالہ بچہ بلال حسن راجپوت بروقت اور درست طبی امداد نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔ اس واقعے نے مقامی ہسپتالوں میں طبی سہولیات کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بچے کے والد افضل راجپوت نے میڈیا کو بتایا کہ بلال کو تقریباً 15 روز قبل ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد اسے علاج کے لیے مقامی تعلقہ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے ویکسین کے تین ڈوز لگائے تھے۔
والد کے مطابق ہسپتال سے ملنے والی ویکسین کے باوجود بچے کی حالت میں بہتری کے بجائے بگاڑ پیدا ہوتا رہا۔ گزشتہ روز جب بچے کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہو گئی تو اسے فوری طور پر حیدرآباد کے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔
حیدرآباد کے سول ہسپتال میں ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد انکشاف کیا کہ بچے کو لگائی گئی ویکسین درست نہیں تھی یا اسے صحیح طریقے سے نہیں لگایا گیا تھا۔ اس غفلت کے نتیجے میں زہر بچے کے پورے جسم میں سرایت کر چکا تھا۔
ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود کمسن بلال جانبر نہ ہو سکا اور ہسپتال میں ہی دم توڑ گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر پائی جا رہی ہے اور لواحقین نے حکام سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سگ گزیدگی کے واقعات میں ویکسین کی دستیابی اور اس کے درست استعمال کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں ویکسین کا کورس مکمل کرنا اور معیاری ادویات کا استعمال جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان کے مختلف دیہی علاقوں میں اکثر اوقات اینٹی ریبیز ویکسین کی قلت یا اس کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ہسپتالوں میں ادویات کے معیار کو یقینی بنائے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی شفاف انکوائری کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ تعلقہ ہسپتال میں کس قسم کی ویکسین فراہم کی گئی تھی اور علاج کے دوران کہاں کوتاہی ہوئی۔
والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچے کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن ہسپتال کی ناقص کارکردگی نے ان سے ان کا لخت جگر چھین لیا۔ لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پاکستان میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد عوامی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف حصوں سے سگ گزیدگی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جن میں بچوں کی اموات کا تناسب تشویشناک ہے۔
اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ عوامی مقامات پر آوارہ کتوں کا خاتمہ اور ہسپتالوں میں معیاری ویکسین کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
بلال حسن راجپوت کی موت نے ایک پورے خاندان کو سوگوار کر دیا ہے۔ علاقے کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے بعد ہسپتال کے عملے کی غفلت کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بچے کی زندگی ضائع نہ ہو۔
حیدرآباد کے سول ہسپتال میں زیر علاج رہنے والے دیگر مریضوں کے لواحقین نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتالوں میں ادویات کی کوالٹی کنٹرول کو بہتر بنایا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور موثر علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔





اپنی رائے دیں