مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:58
بریکنگ
گوجرانوالہ میں ولیمے کی تقریب کو جاتے دلہا دلہن کی گاڑی پر فائرنگ، دلہن جاں بحققلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاکسہ ملکی ون ڈے سیریز، پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف فیلڈنگ کا فیصلہروبسن انٹرنیشنل نے لاہور اسمارٹ سٹی پولو ان پنک ٹورنامنٹ جیت لیاقذافی اسٹیڈیم میں سہ ملکی سیریز: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا دورہکراچی انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ: مصری کھلاڑیوں کا راج، ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئیشہداء کی قربانیوں پر سیاست کرنا افسوسناک ہے، رانا سکندر حیاتبرفانی تیندوا تلاش کریں: کیا آپ کی نظر تیز ہے؟وفاق کے ساتھ ہم آہنگی خیبر پختونخوا کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، فیصل کریم کنڈیایران کے خلاف جارحیت کا ناقابلِ تصور جواب دیں گے، باقر قالیبافگوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہےسول سروسز اکیڈمی میں جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے بلاک کا افتتاحتمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے، عباس عراقچیراولپنڈی میں مبینہ غلط انجکشن لگنے سے پانچ سالہ بچی جاں بحق، عطائی گرفتاررضا اللہ کا اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرلایف نائن پارک میں ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا، محسن نقویراولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحققومی ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہانگلینڈ کا پاکستان کو جیت کے لیے 242 رنز کا ہدف، بین ڈکٹ کی سینچری
تعلیم

کروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئی

جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے کہا ہے کہ تعلیمی شعبے میں طبقاتی تفریق کا خاتمہ اور پائیدار پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئی

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے ملک میں جاری تعلیمی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ میں کروم بکس اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنا اس سنگین مسئلے کا کوئی مستقل اور دیرپا حل نہیں ہے۔

پارٹی کے ترجمان اسلم غوری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہیں، جو کہ ایک قومی المیہ ہے اور اس حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت کو لیپ ٹاپ جیسی وقتی سہولیات کے بجائے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے دیرپا اور پائیدار پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں، کیونکہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے نہ کہ حکومت کا کوئی احسان۔

ترجمان نے حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں طبقاتی تفریق کا خاتمہ کیے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، جہاں اشرافیہ کے بچوں کو فائیو اسٹار سہولیات والے اسکول میسر ہیں۔

اسلم غوری نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب غریب عوام کے بچوں کے لیے قائم اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے کہ واش رومز تک کا فقدان ہے، جو حکومتی کارکردگی اور ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ جن ہاتھوں سے انہیں چند ہزار روپے مالیت کے آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، انہی کی پالیسیوں کے باعث ہر بچہ پیدائش کے ساتھ ہی لاکھوں کا مقروض ہو جاتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال لاکھوں ذہین نوجوان اپنے اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ملک چھوڑ کر بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔

جے یو آئی کے مطابق تعلیمی بحران کا حل صرف جدید آلات کی فراہمی میں نہیں بلکہ اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی تربیت اور یکساں نصاب کے نفاذ میں مضمر ہے تاکہ ہر بچے کو یکساں تعلیمی مواقع مل سکیں۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرے اور ان ڈھائی کروڑ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جو اس وقت تعلیم کی روشنی سے محروم ہو کر گلیوں میں پھر رہے ہیں۔

اسلم غوری کا کہنا تھا کہ صرف اعلانات اور ڈیوائسز کی تقسیم سے تعلیمی معیار بہتر نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے قومی سطح پر ایک مربوط اور شفاف حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں غریب اور امیر کا فرق مٹایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں اصلاحات لائے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ناممکن ہے، کیونکہ قوموں کی ترقی کا انحصار ان کی نوجوان نسل کی معیاری تعلیم اور تربیت پر ہوتا ہے۔

بیان کے آخر میں جے یو آئی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے اور تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جن سے عام آدمی کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔

ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی شعبے میں طبقاتی تفریق کو ختم کرنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر ملک میں تعلیمی پسماندگی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور نئی نسل کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق رہیں گے۔

تعلیم کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں