کراچی کے کریک کلب میں منعقدہ انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ کا میلہ مصری کھلاڑیوں کے نام رہا، جنہوں نے ایونٹ میں اپ سیٹ فتوحات حاصل کرتے ہوئے ٹرافیوں پر قبضہ جمایا۔ فائنل مقابلوں میں مصر کے کھلاڑیوں نے اپنی تکنیکی مہارت اور پھرتی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
مینز سنگلز کے فائنل میں مصر کے کریم الحمامے نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ٹاپ سیڈ انگلینڈ کے کرٹس ملک کو شکست دی۔ انجری کے باوجود کریم الحمامے نے 48 منٹ تک جاری رہنے والے مقابلے میں حریف کو یکطرفہ انداز میں تین صفر سے زیر کیا۔
کریم الحمامے نے فائنل کے تینوں گیمز میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ انہوں نے پہلا گیم 6-11، دوسرا 10-12 اور تیسرا گیم 3-11 سے جیت کر ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ ان کی یہ فتح اسکواش کے حلقوں میں غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔
ویمنز ایونٹ میں بھی مصر کی کھلاڑیوں کا پلڑا بھاری رہا۔ سیڈ 2 کی حامل امینہ الریحانے نے اپنی ہی ہم وطن اور سیڈ 4 کھلاڑی راون العرابی کو فائنل میں شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ یہ میچ بھی یکطرفہ رہا اور امینہ نے تین صفر سے کامیابی حاصل کی۔
امینہ الریحانے نے پہلے گیم میں 6-11، دوسرے میں 8-11 اور تیسرے گیم میں 5-11 سے کامیابی سمیٹی۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد امینہ الریحانے نے ویمنز ایونٹ کی فاتح کا اعزاز حاصل کیا جبکہ راون العرابی رنر اپ رہیں۔
چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب کریک کلب میں منعقد ہوئی جس میں سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ تقریب میں ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر امیر نواز خان بھی بطور مہمان اعزازی موجود تھے۔
تقریب میں اسکواش کے لیجنڈ کھلاڑی جہانگیر خان نے بھی خصوصی شرکت کی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ ایونٹ کے فاتح کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے گئے، جس میں مینز اور ویمنز کیٹیگریز کے لیے مجموعی طور پر 82 ہزار ڈالرز کی انعامی رقم رکھی گئی تھی۔
ویمنز ایونٹ کی فاتح امینہ الریحانے نے ٹائٹل کے ساتھ 5 ہزار 425 ڈالرز کی انعامی رقم بھی حاصل کی۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی سعید غنی نے کھلاڑیوں کو ٹرافیاں اور انعامات پیش کیے اور ان کی کھیل کے میدان میں کارکردگی کو سراہا۔
پاکستان میں بین الاقوامی اسکواش کے مقابلوں کا انعقاد کھیل کے فروغ کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ کریک کلب میں ہونے والا یہ ایونٹ مقامی شائقین کے لیے ایک بہترین موقع تھا جہاں انہوں نے عالمی معیار کے کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھا۔
اسکواش کے ماہرین کے مطابق مصری کھلاڑیوں کی حالیہ فتوحات ان کی سخت محنت اور جدید تربیت کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں اس طرح کے مقابلوں سے مقامی کھلاڑیوں کو بھی سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملتا ہے۔
ایونٹ کے دوران سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو بھی تسلی بخش قرار دیا گیا۔ منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے بین الاقوامی ایونٹس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں اسکواش کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال ہو سکے۔
یاد رہے کہ پاکستان ایک زمانے میں اسکواش کی دنیا کا مرکز رہا ہے اور جہانگیر خان جیسے لیجنڈز نے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ اس طرح کے ٹورنامنٹس ملک میں اسکواش کے کھیل کو دوبارہ نئی بلندیوں پر لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تقریب کے شرکاء نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں کھیلوں کے میدان آباد رہیں گے۔ کھلاڑیوں نے بھی کراچی میں ملنے والی مہمان نوازی اور کریک کلب کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔




اپنی رائے دیں