مواد پر جائیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 15 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:38
بریکنگ
کراچی: جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندوں کی گرفتاریوں پر امیر شہر کا ردعملاسلام آباد: اپنے بچوں کی نازیبا ویڈیوز فروخت کرنے والا سفاک باپ گرفتارشاداب خان کی تاریخی سنچری، پاکستان نے انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے دیانگلینڈ کے خلاف تاریخی فتح پر قومی کرکٹ ٹیم کے لیے مبارکبادوں کا تانتاامریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہغزہ: اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والی کمسن فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لا سکیانگلینڈ کیخلاف فتح پر صدر مملکت، وزیراعظم اور چیئرمین پی سی بی کی قومی ٹیم کو مبارکبادکراچی: نارتھ کراچی میں پانی کی فراہمی کے ساتھ ہی بجلی غائب، مکینوں کا احتجاج کا اعلانکراچی: خواجہ اجمیر نگری میں پولیس سے مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو ہلاکمعیشت کی بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، رانا تنویر حسینایران سفارت کاری کے لیے تیار مگر جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں: اسماعیل بقائیدبئی: خودکار ٹیکسیوں کے تجربات، اہم شاہراہ اور ٹنل 6 روز کیلئے بندسوشل میڈیا پر وائرل گھنی مونچھوں والے نومولود کی ویڈیو حقیقت یا فریب؟گولارچی: کتے کے کاٹنے سے متاثرہ 6 سالہ بچہ ویکسینیشن میں غفلت کے باعث جاں بحقنادرا شناختی کارڈ کی پرنٹنگ کے بعد کوالٹی کنٹرول کا عمل لازمی قراربرازیل میں صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو میں سخت مقابلہروبسن انٹرنیشنل نے لاہور اسمارٹ سٹی پولو ان پنک ٹورنامنٹ جیت لیاقذافی اسٹیڈیم میں سہ ملکی سیریز: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا دورہکراچی انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ: مصری کھلاڑیوں کا راج، ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئی
دنیا

امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

نومبر 2026 میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکن پارٹی کو عوامی مقبولیت میں کمی اور شدید سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

امریکہ میں نومبر 2026 کے پہلے ہفتے میں وسط مدتی انتخابات کا میدان سجنے جا رہا ہے، جس میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلکن پارٹی کو مختلف سیاسی سرویز میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے انتخابی میدان میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ، جو دو بار صدارتی مدت مکمل کر چکے ہیں، اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی آئین کے تحت وہ تیسری بار صدر منتخب نہیں ہو سکتے، تاہم وہ بار بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو تیسری مرتبہ بھی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کی عالمی سطح پر بعض اقدامات اور ناکامیاں ان کے لیے انتخابی بوجھ بن چکی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر حملے اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی ووٹرز کو متاثر کیا ہے۔ غزہ میں 80 ہزار سے زائد شہادتوں کے باوجود اسرائیل کی مسلسل حمایت اور لبنان و شام پر اسرائیلی کارروائیوں پر خاموشی نے بھی عالمی سطح پر امریکہ کے تشخص کو متاثر کیا ہے۔

علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے دوران امریکی عسکری امداد نہ ملنے پر سعودی حکام کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان تمام عوامل نے امریکی ووٹرز کے درمیان ٹرمپ کی ساکھ کو کمزور کیا ہے، جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں کو ملنے کا امکان ہے۔

انتخابی کامیابی کے لیے ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں اور سرمایہ داروں سے مدد لے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایلون مسک نے ری پبلکن پارٹی کی کانگریس میں پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے 275 ملین امریکی ڈالرز سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری امریکی سیاست میں مالی اثر و رسوخ کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اعلان کیا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر بطور 'ٹرمپ ڈیویڈنڈ' دیے جائیں گے۔ تاہم، ماہرین معاشیات نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کے لیے 1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد کے فنڈز درکار ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ پیشکش ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے کی ایک کوشش ہے، جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں ری پبلکن پارٹی کے لیے سینیٹ کی نشستوں کا دفاع کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کو 'ناقابل اعتبار' قرار دیا جا رہا ہے۔ کینیڈین مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کا عالمی اتحادیوں پر اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کے اثرات نومبر کے انتخابات میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔

سفید فام امریکیوں کے ایک مخصوص طبقے میں ٹرمپ کی مقبولیت اب بھی برقرار ہے، خاص طور پر امیگریشن اور غیر ملکیوں کے حوالے سے ان کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے۔ ٹرمپ کی جانب سے انتخابات سے قبل ایران پر مزید حملے نہ کرنے کا بیان بھی اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

انتخابات کے نتائج ری پبلکن پارٹی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اگر ٹرمپ کی پارٹی شکست سے دوچار ہوتی ہے تو کانگریس میں ان کے مخالفین ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی پارٹی کی جیت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ سیاسی تنہائی سے بچ سکیں۔

امریکی انتخابات کے حوالے سے حتمی نتائج 3 نومبر 2026 کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ اس وقت تک دونوں بڑی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کو تیز تر کر رہی ہیں۔ ووٹرز کی جانب سے معیشت، خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی کے معاملات پر فیصلہ کن رائے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کی عالمی ناکامیوں میں 3 جنوری 2026 کو وینزویلا پر حملہ اور وہاں کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا کی گرفتاری بھی شامل ہے، جس کے اثرات اب انتخابی مہم پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے عالمی سطح پر اختیار کردہ جارحانہ پالیسیاں اب ان کے اپنے ووٹرز کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں