کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیش آنے والے دو بچوں کی ماں کے قتل کے اندوہناک واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے کیس کو چوبیس گھنٹوں کے اندر حل کر لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقتولہ سویرا کی لاش جمعرات کی شب لیاقت آباد نمبر چھ کی ایک رہائشی عمارت کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔ تیس سالہ خاتون کو تیز دھار آلے کے وار کر کے بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں لیاقت آباد تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مدعی مقدمہ نے اپنی بہن کے دوست مبین کو قتل کے شبہ میں نامزد کیا تھا، جو واردات کے فوراً بعد سے ہی روپوش ہو گیا تھا۔
پولیس نے جدید ٹیکنیکل ذرائع، خفیہ معلومات اور مخبروں کی مدد سے ملزم کی تلاش شروع کی تھی۔ کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولیس نے نامزد ملزم مبین کو گرفتار کر لیا، جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم مبین اور مقتولہ کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ملزم نے طیش میں آکر تیز دھار آلے سے خاتون پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا شوہر روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہے۔ ملزم نے قتل کی واردات کے بعد شواہد مٹانے کی بھی کوشش کی تھی اور اپنے خون آلود کپڑے کچرا اٹھانے والی گاڑی میں پھینک دیے تھے۔
تفتیشی ٹیم نے ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ مقتولہ اور اس کے بچوں کے موبائل فونز بھی ملزم کے قبضے سے بازیاب کر لیے گئے ہیں، جو تفتیش میں اہم ثبوت ثابت ہوں گے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کے محرکات کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ ملزم کو جلد عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا تاکہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
لیاقت آباد کے رہائشیوں نے پولیس کی جانب سے اتنی تیزی سے کیس حل کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات معاشرتی اقدار کے لیے لمحہ فکریہ ہیں اور ملزم کو سخت سزا ملنی چاہیے۔
خاتون کے قتل کے بعد سے مقتولہ کے اہل خانہ شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مقتولہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین کی سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فرانزک ٹیموں نے بھی جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے تھے جو ملزم کے خلاف عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
شہر میں اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کی گشت اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں۔





اپنی رائے دیں