لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ون ڈے ٹرائی سیریز کے ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دے دی۔ پاکستان کی جیت کے ہیرو آل راؤنڈر شاداب خان رہے جنہوں نے مشکل وقت میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔
انگلینڈ کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 46.4 اوورز میں 241 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ مہمان ٹیم کی جانب سے اوپنر بین ڈکٹ نے 105 رنز کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 46 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن شدید مشکلات کا شکار نظر آئی اور ایک موقع پر پاکستان کے 9 کھلاڑی صرف 154 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے۔ تاہم اس نازک موڑ پر شاداب خان اور حارث رؤف نے کریز پر ڈٹ کر انگلش بولرز کا مقابلہ کیا۔
شاداب خان نے 96 گیندوں پر 113 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس میں 13 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والے کسی بھی بلے باز کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔
آخری وکٹ کے لیے شاداب خان اور حارث رؤف کے درمیان 89 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم ہوئی جو کہ ون ڈے میچوں میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے آخری وکٹ کے لیے ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے۔ حارث رؤف نے 19 گیندوں کا سامنا کیا اور شاداب کا بھرپور ساتھ دیا۔
میچ کے دوران ایک موقع پر شاداب خان کو 97 رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دیا گیا تھا تاہم ریویو لینے پر فیصلہ تبدیل ہو گیا اور وہ اپنی سنچری مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔ میچ کا فیصلہ آخری لمحات میں حارث رؤف کے چوکے سے ہوا جس نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔
انگلینڈ کی جانب سے جیمی اوورٹن نے 43 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں لیکن وہ پاکستان کی آخری جوڑی کو توڑنے میں ناکام رہے۔ میچ کے دوران کچھ کشیدہ لمحات بھی دیکھنے میں آئے جنہیں جو روٹ نے مداخلت کر کے پرسکون کرایا۔
اس شکست کے بعد انگلینڈ کی ٹرائی سیریز سے باہر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ انگلش ٹیم اب تک ٹورنامنٹ میں اپنے تینوں میچ ہار چکی ہے اور ان کی قسمت کا انحصار منگل کو ہونے والے سری لنکا اور پاکستان کے میچ کے نتائج پر ہے۔
پاکستان کی اس تاریخی فتح نے لاہور کے تماشائیوں کو محظوظ کیا اور ٹیم کی دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت کو ثابت کیا۔ شاداب خان کی کارکردگی کو حالیہ برسوں کی بہترین اننگز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
انگلینڈ کی ٹیم کو اپنے اہم کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کا سامنا ہے جن میں جوس بٹلر اور جوفرا آرچر شامل ہیں۔ ٹیم کے کپتان ہیری بروک اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ ٹورنامنٹ کے آخری میچ میں بہتر کارکردگی دکھائی جا سکے۔
پاکستان اب اپنی توجہ منگل کو سری لنکا کے خلاف ہونے والے میچ پر مرکوز رکھے گا۔ اگر پاکستان یہ میچ جیت جاتا ہے تو انگلینڈ کی ٹورنامنٹ سے واپسی کی راہ ہموار ہو جائے گی، جبکہ سری لنکا کی جیت سے ٹورنامنٹ کے پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال مزید دلچسپ ہو جائے گی۔
شاداب خان اور حارث رؤف کی یہ ریکارڈ ساز شراکت طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔ اس میچ نے ثابت کیا کہ کرکٹ میں آخری گیند تک مقابلہ جاری رہتا ہے۔
یہ ٹرائی سیریز انگلینڈ کے لیے ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ تھی، تاہم ٹیم دباؤ میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ انگلینڈ کا اگلا میچ جمعرات کو سری لنکا کے خلاف شیڈول ہے، جس سے قبل ہی ان کی ٹورنامنٹ میں بقا کا فیصلہ ہو جائے گا۔




اپنی رائے دیں