مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 12:37
بریکنگ
بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیجہلم: ویٹنری ہسپتال میں جدید آپریشن تھیٹر کا افتتاح، موبائل وینز کی فراہمی کا اعلانستاروں کی روشنی میں آپ کا آج کا دن کیسا رہے گا؟راولپنڈی: موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے میاں بیوی جاں بحقصوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی صاحبزادی ودیعت فاطمہ رشتہ ازدواج میں منسلکجاپان کا امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کیلئے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلانسعودی عرب: عمرہ زائرین کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کا آغازواٹس ایپ کا نیا فیچر، اسٹیکرز میں اپنی آواز شامل کرنا ممکن ہوگاٹائپ 3 ذیابیطس کیا ہے؟ طبی ماہرین کی نئی تحقیق میں اہم انکشافکراچی: نجی کمپنی کے فنڈز میں خردبرد کرنے والے دو ملزمان ایف آئی اے کے ہتھے چڑھ گئےالٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرارپشاور: گیس کنکشن کے تنازع پر ہمسایوں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحقلاہور ایئرپورٹ پر جعلی دستاویزات پر ملائیشیا جانے کی کوشش ناکامپشاور: گیس پائپ لائن کی منتقلی کے باعث مختلف علاقوں میں فراہمی معطل رہے گیامریکہ بھر میں ‘نو کنگز’ مہم کے تحت صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف مظاہرے
پاکستان

پیمرا کا سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ناخوشگوار واقعات کی براہ راست کوریج سے گریز کا حکم

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ناخوشگوار واقعات کی براہ راست کوریج سے گریز کی سخت ہدایت جاری کر دی۔

پیمرا کا سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ناخوشگوار واقعات کی براہ راست کوریج سے گریز کا حکم

اسلام آباد میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کیلیے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کا مقصد نشریاتی امور کو بہتر بنانا ہے۔ اتھارٹی نے ملک بھر کے تمام نیوز اور کرنٹ افیئرز چینلز کو واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ ناخوشگوار واقعات کی براہ راست کوریج سے ہر صورت گریز کریں۔

جاری کردہ احکامات کے مطابق دھماکوں، فائرنگ اور دہشتگردی کے مختلف حملوں جیسے حساس نوعیت کے واقعات کی براہ راست نشریات پر پابندی کو سختی سے برقرار رکھا گیا ہے۔ پیمرا کی جانب سے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو اس حوالے سے بیس فروری دو ہزار تئیس کے حکم امتناع پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادارے کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام نشریاتی ادارے کسی بھی واقعے کے بعد صرف متعلقہ محکموں یا باقاعدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصدیق شدہ معلومات ہی نشر کریں۔ غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں کو نشر کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ عوام میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تشویش یا خوف و ہراس نہ پھیلے۔

پیمرا نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تمام نیوز چینلز اپنی نشریات میں ٹائم ڈیلے میکانزم کا مؤثر اور بہترین انداز میں استعمال کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری طور پر سکرین پر مواد کی جانچ پڑتال ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ چینلز کو ایک آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

اتھارٹی نے تنبیہ کی ہے کہ جاری کردہ ان ہدایات اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ٹی وی چینل کے خلاف پیمرا آرڈیننس کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں دفعات انیس سو چھیاسی کے آرڈیننس کے تحت ضوابط کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔

میڈیا انڈسٹری اور نشریاتی اداروں کو ہمیشہ سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ قومی سلامتی اور امن عامہ کے اصولوں کو مقدم رکھا جا جا سکے۔ پیمرا کا یہ تازہ ترین اقدام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد میڈیا کے ذریعے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے ضابطے کے تحت تمام نجی ٹی وی چینلز کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ریگولیٹری اتھارٹی کے جاری کردہ قوانین اور ہدایات پر کاربند رہیں تاکہ ملک میں صحافتی اقدار کے ساتھ ساتھ اجتماعی نظم و ضبط بھی بہتر طریقے سے برقرار رکھا جا سکے جس سے مجموعی معاشرتی فضا پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

نشریاتی اداروں کے لیے یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران عجلت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے مصدقہ حقائق کو سامنے لائیں۔ ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا یہی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات پر رپورٹنگ کرتے وقت تمام حفاظتی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے۔

پیمرا کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں اس بات کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے کہ ٹی وی سکرینز پر چلنے والی بریکنگ نیوز اور دیگر خبریں کسی بھی تضاد سے پاک ہوں۔ اس مقصد کے لیے تمام چینلز کے اندرونی مانیٹرنگ سسٹمز کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا تمام میڈیا ہاؤسز کی بنیادی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے تاکہ عوام تک درست اور بروقت معلومات پہنچائی جا سکیں۔ اس پالیسی کے نفاذ سے افواہ سازی کی حوصلہ شکنی ہوگی اور معاشرے میں استحکام کی فضا کو مزید تقویت ملے گی۔

پیمرا کا یہ اداراتی فیصلہ ملک بھر میں میڈیا کے ضابطہ کار کو بہتر بنانے کی ایک اور کوشش ہے جس کا مقصد ناظرین کو غیر مصدقہ یا ہیجان انگیز مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس ہدایت نامے پر حرف بہ حرف عمل درآمد کریں گے۔

حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ملکی مفادات، امن و امان اور عوامی مفاد کا بھرپور تحفظ کیا جائے۔ ان اصولوں کی پاسداری سے ملک میں صحافت کے اعلیٰ معیارات کو برقرار رکھنے میں نمایاں مدد ملتی ہے۔

تمام میڈیا گروپس اور چینل انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے پلیٹ فارمز پر ان ضوابط کی سختی سے پابندی کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جا سکے اور نشریاتی معیار کو ملکی قوانین کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں