بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے نئی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق صوبے کے بیشتر حصوں میں موسم تاحال خشک رہنے کی توقع ہے۔
تاہم صوبے کے شمالی علاقوں میں موسم کی تبدیلی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے جہاں صبح اور رات کے اوقات میں سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
موسم کی اس تبدیلی اور خنکی میں اضافے کے ساتھ ہی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو روزمرہ زندگی میں اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
طویل عرصے سے جاری خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کے باعث صوبے بھر میں خشکی کا راج ہے جس سے ماحولیاتی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
موسم میں اچانک تبدیلی اور سردی کی لہر آنے کے بعد کوئٹہ اور دیگر شمالی علاقوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی موسمی بیماریوں کی شکایات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ درجہ حرارت کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں پارہ مختلف سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سرد ترین علاقوں میں قلات سر فہرست ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسی طرح سیاحتی اور پہاڑی مقام زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے جہاں سردی کا زور زیادہ ہے۔
صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں صبح و شب کی خنکی تیز ہو چکی ہے۔
سرحدی شہر چمن میں کم سے کم درجہ حرارت نو ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ مقامی موسم کی مناسبت سے سرد ہے۔
ژوب کے مقام پر کم سے کم درجہ حرارت چودہ ڈگری سینٹی گریڈ اور نوکنڈی میں پندره ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صوبے کے نسبتاً گرم علاقوں میں بھی درجہ حرارت میں اعتدال دیکھا گیا ہے جہاں سبی میں کم سے کم درجہ حرارت تئیس ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
تربت میں کم سے کم درجہ حرارت چوبیس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ دیگر شمالی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔
ساحل سے ملحقہ علاقوں میں بھی موسم کا حال مختلف ہے جہاں گوادر میں کم سے کم درجہ حرارت بائیس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
اس کے علاوہ ساحلی شہر جیوانی میں کم سے کم درجہ حرارت تیئیس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں موسم نسبتاً بہتر ہے۔
دوسری جانب موسم میں خنکی اور سردی بڑھنے کے ساتھ ہی گیس اور بجلی کی فراہمی کا مسئلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے باعث گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کو سرد موسم میں کھانا پکانے اور دیگر گھریلو امور کی انجام دہی میں گیس کے کم دباؤ کی وجہ سے پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔
بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بندش نے بھی معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے جس سے مسائل میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ سردی بڑھنے کے ساتھ ہی گیس اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے لیکن متعلقہ ادارے غفلت برت رہے ہیں۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کے کم پریشر اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
لوگوں کا یہ بھی پرزور مطالبہ ہے کہ سرد موسم کے پیش نظر بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کی تکالیف میں کمی آ سکے۔




اپنی رائے دیں