ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور حیرت انگیز اور انقلابی کارنامہ سامنے آیا ہے جس کے تحت ماہرین نے ایسی جدید ٹیکنالوجی وضع کر لی ہے جو انٹرنیٹ پر خوشبوؤں کو ڈیجیٹل انداز میں شیئر کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
اس نئی اور منفرد ایجاد کا بنیادی اور اہم ترین مقصد دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے افراد کے درمیان باہمی مواصلات اور ڈیجیٹل تجربات کو مزید حقیقی، دلچسپ اور جاندار بنانا ہے۔ اب تک انٹرنیٹ پر صرف تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں کا تبادلہ ہی ممکن تھا لیکن خوشبو کا احساس دلانے والی اس ٹیکنالوجی نے ڈیجیٹل دنیا میں ایک بالکل نیا باب کھول دیا ہے۔
اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں میٹریلز سائنس اینڈ انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ محققین نے اس جدید نظام کو کامیابی کے ساتھ وضع کیا ہے جس میں الیکٹرانک ناک کا حیرت انگیز استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جدید الیکٹرانک ناک مختلف قسم کی خوشبوؤں کو نہایت باریک بینی اور مہارت کے ساتھ پہچاننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے سگنلز کو آگے منتقل کرتی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور ڈاکٹریٹ کے ہونہار طالب علم چُن یو یانگ کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی ایک مقام پر موجود خوشبو کو سونگھنے اور دوسری جگہ پر ہو بہو ویسی ہی مہک پیدا کرنے کے سائنسی عمل کو آپس میں مضبوطی سے مربوط کرتی ہے۔ اس سائنسی نظام کا نام سینٹرونک رکھا گیا ہے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے اور ماہرین کو قوی امید ہے۔
اس سسٹم کے تحت انسانی جسم پر پہنے جانے والے ایک ریموٹ آلے کو فوری طور پر ضروری ہدایات ارسال کی جاتی ہیں تاکہ وہ بروقت اپنا کام شروع کر سکے۔ اس خصوصی ریموٹ ڈیوائس کا بنیادی کام مخصوص خوشبو دار سالمات کو فضا میں خارج کرنا ہوتا ہے تاکہ بالکل اصل خوشبو جیسی مہک محسوس کی جا سکے۔
چُن یو یانگ نے اپنے ایک اہم بیان میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اس تمام سائنسی کاوش کا اصل مقصد آن لائن رابطوں کو محض دیکھنے اور سننے کی حد تک محدود نہیں رکھنا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں سونگھنے کا حسی تجربہ بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ رابطے زیادہ مؤثر بن سکیں۔
محققین کے مطابق اس سے قبل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صرف بصری اور صوتی مواد ہی باقاعدگی سے شیئر کیا جاتا تھا لیکن اب خوشبو کے اس دلچسپ اضافے سے دور بیٹھے اپنوں کے ساتھ میل جول کا احساس مزید گہرا ہو جائے گا۔ یہ جدید ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں ورچوئل رئیلٹی اور آن لائن شاپنگ سمیت مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ اس جدید نظام کے ذریعے صارفین کسی بھی پروڈکٹ کو آن لائن خریدتے وقت اس کی اصل خوشبو کا اندازہ بھی گھر بیٹھے باآسانی لگا سکیں گے۔ اس ایجاد سے صارفین کو آن لائن خریداری کے دوران بھی ایک حقیقی تجربہ حاصل ہوگا جو پہلے ممکن نہیں تھا۔
اس کے علاوہ طویل فاصلے پر موجود اپنے پیاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران ان کے قریب ہونے کا خوشگوار احساس دلانے میں بھی یہ ایجاد ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ سائنسی حلقوں میں اس نئی اور منفرد تحقیق کو انتہائی تحسین اور ستائش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسے سراہا جا رہا ہے۔
اس تمام تحقیق کا بنیادی محور انسانی تجربات کو ڈیجیٹل دنیا میں زیادہ سے زیادہ حقیقی بنانا ہے تاکہ فاصلے کم سے کم محسوس ہوں۔ انٹرنیٹ کی تاریخ میں خوشبو کی منتقلی کا یہ پہلا بڑا اور باقاعدہ سائنسی قدم ہے جسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
امریکہ کی معروف اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی یہ کاوش آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل مواصلات کی دنیا کا نقشہ بدلنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور اس پر مزید کام تیزی سے جاری ہے۔




اپنی رائے دیں