بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ بچوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے۔
یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بچوں کو درپیش خطرات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ تک بلا روک ٹوک رسائی دینے سے گریز کریں۔
رپورٹ کے مطابق ہراسانی کا شکار ہونے والے بچوں میں سے 57 فیصد نے سماجی دباؤ، بدنامی کے ڈر اور خاندانی ردعمل کے خوف سے اس واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ یہ خاموشی بچوں کو مزید نفسیاتی مسائل میں مبتلا کر سکتی ہے۔
یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے غلط استعمال کو ایک نیا اور ابھرتا ہوا سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آن لائن ہراسانی کے کل واقعات میں سے 44 فیصد کا تعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہے۔ یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے موجودہ حفاظتی اقدامات پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔
رپورٹ میں ایک اور اہم انکشاف یہ ہوا ہے کہ متاثرہ بچوں کے بیانات کے مطابق 85 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم کوئی اجنبی نہیں بلکہ ان کا جاننے والا یا قریبی واقف کار شخص تھا۔ یہ پہلو بچوں کی آن لائن دوستیوں پر نظر رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یونیسیف نے جنسی ہراسانی کی مختلف صورتوں کی نشاندہی کی ہے جن میں بچوں کو نازیبا پیغامات اور تصاویر بھیجنا، ان سے نجی تصاویر کا مطالبہ کرنا، تصاویر کی غیر قانونی تشہیر اور بلیک میلنگ شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ادارے نے پاکستان کے قانونی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر زور دیا ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانا ناگزیر ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آن لائن جرائم کی تحقیقات کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شکایات درج کروانے کے محفوظ اور آسان ذرائع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یونیسیف نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے آگاہ کریں۔ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ اگر وہ کسی ناخوشگوار تجربے سے گزریں تو بلا جھجھک اپنے بڑوں کو بتا سکیں۔
ڈیجیٹل دور میں بچوں کی حفاظت کے لیے صرف تکنیکی اقدامات کافی نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی ہی انہیں اس طرح کے سنگین خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ سائبر کرائم کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا اب ایک قومی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یونیسیف کی یہ رپورٹ پاکستان میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے، جس کا مقصد حکومتی اداروں اور والدین کو متوجہ کرنا ہے کہ وہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات سے بچانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔





اپنی رائے دیں