مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 12:58
بریکنگ
پشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی وارامریکا: پرانے سامان کی خریداری کے دوران دوسری جنگِ عظیم کے فعال بم برآمدستاروں کی روشنی میں آپ کا آنے والا ہفتہ کیسا رہے گا؟سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات؛ امریکا اور برطانیہ کی شہریوں کو سفری ہدایات جاریخیبر پختونخوا: نادرا کے 43 نئے سہولت مراکز کا قیام، شہریوں کو بڑی ریلیفسان فرانسسکو میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد، ٹیکنالوجی میں تعاون پر زورپاکستان اور چین کی پہلی مشترکہ فوجی مشق ‘قراقرم 2026’ کا آغازیوکرین کے سابق فٹبالر روس کے خلاف جنگ میں ہلاککراچی ایئرپورٹ پر ہم جنس شادی کے ارادے سے تھائی لینڈ جانے والے دو مسافر آف لوڈسعودی عرب: دہشت گردی میں ملوث 5 شہریوں کو سزائے موت دے دی گئیمحمد رضوان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی، پریزیڈنٹ ٹرافی میں ایکشن میں نظر آئیں گےمریم نواز کا بیان: جے یو آئی ترجمان اسلم غوری کا سخت ردعمللاہور: استاد نصرت فتح علی خان کی فنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی تقریبخواتین کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اٹارنی جنرلمحمد رضوان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی اجازت مل گئیچین کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام سالانہ ایک کروڑ ہنرمند افراد فراہم کر رہا ہے
تعلیم

چین کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام سالانہ ایک کروڑ ہنرمند افراد فراہم کر رہا ہے

چین میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے عالمی معیارات کا فریم ورک جاری، 45 ممالک کی شرکت۔

چین کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام سالانہ ایک کروڑ ہنرمند افراد فراہم کر رہا ہے

چین کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام حالیہ برسوں کے دوران ملکی صنعتوں کو سالانہ اوسطاً ایک کروڑ کے قریب ہنرمند افراد فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار شمالی شہر تیانجن میں منعقدہ عالمی کانفرنس برائے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و ترقی کے موقع پر جاری کردہ حقائق نامے میں سامنے آئے ہیں۔

تین روزہ جاری رہنے والی اس کانفرنس میں چین کے تعلیمی نظام کی وسعت اور اس کی افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ رپورٹ کے مطابق چین میں نئے شامل ہونے والے ہنرمند افراد کی اوسط تعلیمی مدت 14.35 سال تک پہنچ چکی ہے جو کہ ایک نمایاں پیش رفت ہے۔

سال 2025 کے تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق، چین کے اعلیٰ فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں سے 58 لاکھ 20 ہزار طلبہ نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اسی عرصے کے دوران ثانوی فنی و پیشہ ورانہ سکولوں سے بھی 52 لاکھ 20 ہزار طلبہ فارغ التحصیل ہوئے۔

چین کو دنیا کا سب سے بڑا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام رکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ملک بھر میں 9 ہزار 151 ثانوی فنی و پیشہ ورانہ سکول، ایک ہزار 554 اعلیٰ فنی و پیشہ ورانہ کالج اور 124 ایسے ادارے موجود ہیں جو انڈر گریجویٹ پروگرام پیش کرتے ہیں۔

ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں نصف سے زائد تعداد فنی و پیشہ ورانہ اداروں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 52 عام اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی فنی و پیشہ ورانہ بیچلر ڈگری پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کو مہارتیں فراہم کر رہے ہیں۔

سال 2025 کے اختتام تک چین میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے مضامین کی فہرست انتہائی وسیع ہو چکی ہے۔ اس میں 19 بڑے شعبے، 97 ذیلی شعبے اور ایک ہزار 491 مضامین شامل ہیں جو قومی معیشت کی 41 بڑی اقسام کا احاطہ کرتے ہیں۔

تیانجن کانفرنس کی اختتامی تقریب میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے عالمی معیارات کا ایک نیا فریم ورک مشترکہ طور پر جاری کیا گیا۔ اس اہم دستاویز کی تیاری میں چین نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور اسے 45 ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔

اس فریم ورک کا بنیادی مقصد فنی و پیشہ ورانہ سکولوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس میں تمام افراد کے لیے تاحیات تعلیم و تربیت کا نظام قائم کرنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے تاکہ افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

صنعت اور تعلیم کے درمیان گہرے اشتراک کو بھی اس فریم ورک کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت تدریسی مواد کی تیاری میں صنعتی ماہرین کی مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی ادارے مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ رہ سکیں۔

تعلیمی اداروں اور کاروباری اداروں کے مابین شراکت داری کے ذریعے تدریسی ٹیموں کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے عملی تربیت کے معیار میں بہتری آئے گی اور طلبہ کو اپنی تعلیم کے دوران ہی عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بھی اس فریم ورک میں اہم تجاویز دی گئی ہیں۔ خاص طور پر تعلیم و تدریس کے عمل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اصلاحات کو تیز کیا جا سکے۔

چین کا یہ تعلیمی ماڈل دنیا بھر کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج چین کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔

عالمی سطح پر فنی تعلیم کے ان معیارات کا نفاذ نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی سودمند ثابت ہوگا۔ اس فریم ورک کے ذریعے عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی نقل و حرکت اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

تعلیم کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں