صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو متنازعہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں حصہ نہ ملنے کی مایوسی میں شہداء کے خلاف بات کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
لاہور میں صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے افواج پاکستان اور دیگر سکیورٹی اداروں کے جوانوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی بے حرمتی کرنے والوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان نے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ اپنے نمائندوں سے کارکردگی کا حساب مانگتے ہیں۔
اس موقع پر صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران تحریک انصاف کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے اور اس کے تدارک کے لیے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ کسی سیاسی خواہش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک مجبوری کے تحت اٹھایا گیا قدم تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبے میں آئینی اور انتظامی امور کو درست سمت میں لانا تھا۔
رانا سکندر حیات نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی کے اداروں اور شہداء کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کچھ کھویا ہے اور اب وہ امن و سکون کے متلاشی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کردار ادا کریں۔
سلمیٰ بٹ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
دونوں وزراء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے بچانے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
رانا سکندر حیات نے آخر میں کہا کہ سیاست کا میدان عوامی خدمت کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ اداروں کو متنازعہ بنانے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اپنی سیاست کا رخ عوامی مسائل کے حل کی طرف موڑنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اپنے شہداء سے محبت کرتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر متحد رہیں۔


اپنی رائے دیں