مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:57
بریکنگ
گوادر میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، خاتون سمیت 10 دہشتگرد ہلاکگوادر میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب کلیئرنس آپریشن، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکگوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکلسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقدہشت گرد جہاں بھی ہوں گے، سخت جواب ملے گا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیربھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیرراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارگوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہامریکا کا کینیڈا پر وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کا الزامکراچی: ڈارک ویب کے خطرناک ٹاسک میں پھنسی 13 سالہ بچی بازیابجماعت اسلامی کا آج ملک بھر کے 150 شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا اعلانپی ٹی آئی کو سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا سکتا: شوکت یوسف زئی
پاکستان

پنجاب حکومت کا سرکاری پروٹوکول اور پولیس اسکواٹس کے غیر مجاز استعمال پر پابندی کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر بغیر منظوری سرکاری پروٹوکول اور جھنڈوں کے استعمال کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا۔

پنجاب حکومت کا سرکاری پروٹوکول اور پولیس اسکواٹس کے غیر مجاز استعمال پر پابندی کا اعلان

حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں سرکاری افسران اور نجی افراد کی جانب سے غیر قانونی اور غیر مجاز سرکاری پروٹوکول، مستقل پولیس اسکواٹس کے استعمال اور گاڑیوں پر سرکاری جھنڈے لگانے پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کی طرف سے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ عوامی وسائل کے بے جا استعمال کو روکا جا سکے اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے کیونکہ وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے لیے انتظامیہ نے اب سخت اقدامات اٹھانے کا تہیہ کر لیا ہے۔

جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے جانے والے ایک باضابطہ بیان میں صوبائی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ تمام محکموں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ بغیر کسی قانونی منظوری کے پروٹوکول لینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ صوبائی انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عام شہریوں کو سفر کے دوران درپیش مشکلات کا ازالہ کرنا اور سڑکوں پر غیر ضروری پروٹوکول کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا سدباب کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس پالیسی پر فوری اور غیر مشروط عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ کسی بھی سطح پر غفلت یا لاپرواہی کی گنجائش نہ رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کا عنوان وزیراعلیٰ کی ترجیحی ہدایات رکھا گیا ہے جو اس پالیسی کی اہمیت اور حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی کو ہرگز برداشت نہ کریں۔

جاری کردہ ان نئی اور سخت ہدایات کی رو سے صوبائی کابینہ کے اراکین، مشیروں، وزیراعلیٰ کے معاونینِ خصوصی، پارلیمانی سیکریٹریز اور مختلف قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں سمیت صوبائی اسمبلی کے اراکین کے لیے بھی بغیر مناسب منظوری کے مستقل پولیس اسکواڈ رکھنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ ان تمام رہنماؤں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے سرکاری امور انجام دیں اور غیر ضروری پروٹوکول کے حصول سے گریز کریں۔

ان پابندیوں کا دائرہ کار صرف منتخب نمائندوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ تمام سرکاری افسران اور نجی نوعیت کے افراد پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے تاکہ وی آئی پی کلچر کے نام پر عام شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے ماتحت عملے پر ان احکامات کی سختی سے پابندی کروائیں۔

نوٹیفکیشن میں اس امر پر بھی سخت گیر مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وہ تمام افراد جو قانون کی رو سے اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ وہ اپنی ذاتی یا سرکاری گاڑیوں پر سرکاری جھنڈے لہرائیں، وہ فوری طور پر اس عمل سے باز رہیں اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ گاڑیوں پر غیر قانونی طور پر جھنڈوں کا استعمال عام شہریوں میں اشتعال کا باعث بنتا ہے جس کا اب سختی سے نوٹس لیا جا رہا ہے۔

صوبائی پولیس کے سربراہ یعنی انسپکٹر جنرل آف پولیس کو یہ خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان احکامات کی تعمیل کروائیں اور صوبے بھر میں بغیر اجازت یا غیر قانونی طور پر تعینات کیے گئے تمام پولیس اسکواٹس کو فوری طور پر واپس بلا لیں۔ آئی جی پنجاب کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس عمل کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کریں اور عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ حکام کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائیں۔

حکومت کا یہ اہم ترین اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کی چیف ایگزیکٹو مریم نواز شریف نے پولیس حکام کو پورے پنجاب بالخصوص بڑے شہروں میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ پولیس فورس کا اصل کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ چند مخصوص افراد کو پروٹوکول فراہم کرنا۔

امن و امان کے اس خصوصی ایجنڈے کے تحت خواتین اور بچوں کے خلاف رونما ہونے والے جرائم کی موثر انداز میں روک تھام کرنے پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پولیس حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں تاکہ شہریوں میں کاٹا ہوا احساسِ تحفظ بحال ہو سکے۔

یاد رہے کہ اس اہم فیصلے سے کچھ عرصہ قبل ہی وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام اعلیٰ پولیس افسران کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی تھی اور یہ واضح انتباہ بھی جاری کیا تھا کہ مقررہ مدت میں مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرنے والے افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ اس سخت انتظامی وارننگ کے بعد پولیس کے محکمے میں کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی اس پالیسی کا بنیادی مقصد صوبے میں قانون کی حکمرانی کو قائم کرنا، سرکاری وسائل کی بچت کرنا اور عام شہریوں کی سہولت کے لیے سڑکوں پر غیر ضروری پروٹوکول کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا مستقل اور فوری سدباب کرنا ہے۔ عوام کی طرف سے بھی حکومت کے اس اقدام کو انتہائی سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عام آدمی کو ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

صوبائی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نوٹیفکیشن کے مندرجات پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرتے ہوئے اپنی رپورٹ فوری طور پر متعلقہ حکام کو ارسال کریں۔ یہ کریک ڈاؤن صوبے بھر کے تمام اضلاع میں بیک وقت شروع کر دیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی با اثر شخصیت کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ صوبے میں گورننس کے نظام کو مزید شفاف اور عوام دوست بنائے گی تاکہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں