اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود اکاؤنٹ کو بند کرنے کی استدعا کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت باضابطہ طور پر منعقد کی گئی۔ اس اہم عدالت کارروائی میں فریقین کے وکلا اور متعلقہ حکام نے شرکت کی اور عدالت نے کیس کے جملہ امور پر غور کیا تاکہ اس قانونی تنازع کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
عدالت عالیہ کے معزز جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی اور تمام متعلقہ فریقین کے دلائل غور سے سنے۔ اس قانونی کارروائی کے دوران کمرہ عدالت میں فریقین کے وکلا کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے جو اس کیس کی تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے تاکہ عدالت کو اس ضمن میں درکار تمام تر معلومات فراہم کی جا سکیں۔
اس عدالت میں یہ درخواست غلام مرتضیٰ کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس کو بند کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مؤقف اور قانونی نکات پر عدالت میں بحث کا سلسلہ جاری ہے اور عدالت اس معاملے کے تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس درخواست کے حوالے سے مناسب اور منصفانہ فیصلہ صادر کیا جا سکے۔
مقدمے کی اس تازہ ترین سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہو کر اپنی موجودگی درج کروائی۔ ان کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے دیگر معزز وکلا خالد یوسف چودھری اور شمسہ کیانی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جنہوں نے اس موقع پر عدالتی کارروائی میں حصہ لیا اور ضروری قانونی امور کی انجام دہی میں اپنا کردار ادا کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے کے ذمہ دار حکام بھی عدالت میں باقاعدہ طور پر پیش ہوئے۔ ان حکام نے عدالت کو اس کیس سے جڑے تکنیکی اور انتظامی امور کے حوالے سے بریفنگ دی اور عدالت کے استفسار پر متعلقہ امور کے بارے میں ضروری وضاحتیں پیش کیں تاکہ عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔
سماعت کے آغاز پر معزز جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے بیرسٹر گوہر علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ آپ کو ذاتی طور پر اس عدالت میں طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے امور کے لیے صرف باقاعدہ تحریری جواب ہی عدالت میں بھجوایا جا سکتا تھا جس کے لیے ذاتی حاضری لازم نہیں تھی۔
اس عدالتی ریمارکس کے جواب میں بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت کے روبرو اپنا پختہ مؤقف پیش کرتے ہوئے باضابطہ طور پر یہ بیان دیا کہ سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف اس مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو تسلیم بالکل نہیں کرتی۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی سیاسی جماعت کا اس اکاؤنٹ سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کی ملکیت کا کوئی دعویٰ کرتے ہیں۔
عدالت میں مزید گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے سرکردہ رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت پر واضح کیا کہ اب حالات ماضی کی نسبت کافی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ بدلتے ہوئے زمینی و سیاسی حالات کے تناظر میں انہیں ایک تفصیلی اور جامع تحریری جواب عدالت میں جمع کرانے کے لیے مناسب وقت درکار ہے۔
معزز عدالت نے بیرسٹر گوہر علی خان کی اس استدعا کو معقول قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست کو منظور کر لیا اور انہیں اس اہم معاملے پر اپنا تحریری جواب جمع کرانے کے لیے باقاعدہ مہلت فراہم کر دی۔ عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اپنے تحریری جوابات عدالت میں جمع کروائیں تاکہ مقدمے کی کارروائی کو بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے آگے بڑھایا جا سکے۔
تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس کی مزید کارروائی اور آئندہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی۔ معزز عدالت نے اس مقدمے کی اگلی سماعت آئندہ ماہ کی تیئیس تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی جس دن اس درخواست پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور فریقین کے دلائل سنے جائیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اس متنازع درخواست پر عدالت کے اندر متعدد بار مختلف قانونی پہلوؤں پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے اور عدالت فریقین کے وکلا کے دلائل کی روشنی میں اس آئینی و قانونی نکتے کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ عدالت اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس درخواست میں اٹھائے گئے قانونی نکات کس حد تک درست ہیں اور اس معاملے میں قانون کا کیا تقاضا ہے۔
عدالتی کارروائی کے اختتام پر سیکورٹی اور متعلقہ ریاستی اداروں کے ذمہ دار حکام نے بھی اپنی حاضری کو یقینی بنایا جبکہ قانونی ٹیم کے ارکان نے میڈیا اور عدالت کو بتایا کہ وہ آئندہ تاریخِ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ عدالت کے روبرو پیش ہوں گے۔ وکلا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عدالت کی جانب سے دی گئی مہلت کے اندر اپنا تحریری جواب تیار کر کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیں گے۔
اس تمام عدالتی عمل کے دوران فریقین کے درمیان قانونی نکتہ ہائے نظر پر بھی گفتگو ہوئی اور عدالت نے تمام فریقین کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مؤقف کی تائید میں دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس نوعیت کے مقدمات ملک میں ڈیجیٹل میڈیا اور سیاسی شخصیات کے اکاؤنٹس کے حوالے سے بڑھتی ہوئی قانونی بحث کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں جن پر عدالتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آئندہ آنے والے دنوں میں اس کیس کی سماعت کے دوران فریقین کی جانب سے جمع کروائے جانے والے تحریری جوابات اس مقدمے کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عدالت ان تحریری جوابات کا جائزہ لینے کے بعد اس کیس کے اگلے مراحل کا فیصلہ کرے گی جو کہ فریقین کے لیے قانونی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔





اپنی رائے دیں