اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے ایک شہری کا نام خارج نہ کرنے کے اہم معاملے پر سماعت ہوئی۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے متعلقہ حکام کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر شدید غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آخر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے جان بوجھ کر گریز کیوں کیا جاتا ہے اور ہمیشہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر ہونے کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے۔ فاضل جج نے برہم ہو کر ریمارکس دیے کہ کیا اب بیوروکریسی اس ملک کو چلائے گی اور کیا عدالتی احکامات کی جانچ پڑتال کے لیے کوئی الگ کمیٹی بنائی گئی ہے۔
عدالت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر کوئی بھی عدالتی فیصلہ قانونی طور پر غلط محسوس ہو تو اسے متعلقہ فورم یا اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے مگر حتمی حکم پر عملدرآمد بہرحال لازمی ہے۔ حکام کی جانب سے دائر کی جانے والی غیر مشروط معافی کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے موقف اپنایا کہ اب اس طرح کی معافیاں قبول نہیں کی جائیں گی۔
جسٹس اعظم خان نے اس بات پر بھی گہرا زور دیا کہ عدالتوں کو غیر مؤثر یا بے توقیر کرنے کی اس روش کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ غریب اور بے بس شہری ہی امید کی کرن لے کر عدالتوں کا رخ کرتے ہیں اور اگر انہیں ریلیف نہ ملا تو سسٹم بالکل بیٹھ جائے گا۔
سماعت کے دوران حکام پر یہ امر بھی واضح کیا گیا کہ حساس رپورٹس یا کسی بھی قسم کی اندرونی میٹنگز کی آڑ میں عدالتی فیصلوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جا سکتیں۔ عدالت نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ اس نوعیت کے انتظامی اقدامات سے عام آدمی کا ریاست پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
درخواست گزار کے معزز وکیل نے عدالت کے روبرو اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر متعلقہ فریق یا شہری کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا تخریب کاری میں ملوث ہے تو عدالت کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے۔ وکیل نے مزید کہا کہ درست حقائق کی روشنی میں ہی عدالت میں دلائل دیے جاتے ہیں۔
پاسپورٹ اور امیگریشن کے ذمہ دار حکام نے عدالت کو صفائی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ مصروفات اور اہم میٹنگز ملتوی ہونے کی وجہ سے عملدرآمد کے عمل میں تاخیر ہوئی۔ حکام نے کھل کر تسلیم کیا کہ اس پورے انتظامی معاملے میں کچھ خامیاں اور بہتری کی گنجائش موجود تھی۔
عدالت نے حکام کی تمام تر توجیہات کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے یہ واضح حکم جاری کیا کہ شہری وجاہت حسین کا نام فوری طور پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جائے۔ عدالت نے متعلقہ امیگریشن حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس عدالتی فیصلے پر فوراً عمل کرکے کل تک اپنی رپورٹ جمع کرائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر آج کے روز عدالتی حکم نامے پر مکمل عملدرآمد نہ کیا گیا تو اگلے روز سے توہینِ عدالت کی باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اس مقدمے میں ذمہ دار قرار پانے والے افسران کو قید کی سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس اہم پیشرفت کے بعد عدالت نے اس کیس کی مزید کارروائی کو آئندہ روز تک کے لیے باضابطہ طور پر ملتوی کر دیا۔ قانونی حلقوں اور مبصرین میں اس فیصلے کو عدالتی رٹ کی بحالی اور بیوروکریٹک تاخیر کے خلاف ایک انتہائی اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنانا تمام ریاستی اداروں کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری ہے تاکہ ملک کے اندر شہریوں کے تمام بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔ اس قسم کے کھردرے عدالتی ریمارکس انتظامی اداروں میں نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی قائم کرنے میں ہمیشہ معاون ثابت ہوتے ہیں۔
شہری وجاہت حسین کے اس زیرِ بحث معاملے میں آنے والے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی تازہ رپورٹ کل عدالت میں پیش کی جائے گی، جس کے بعد اس توہینِ عدالت کیس کا اگلا رخ پوری طرح طے ہوگا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس سخت فیصلے سے متعلقہ انتظامی مشینری میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور تمام حکام عدالتی احکامات پر عمل کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ اپنے فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کرانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی سطح پر عدالتی حکم عدولی کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوام کی نظریں اب کل کی سماعت اور اس پر آنے والی حتمی رپورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔

اپنی رائے دیں