مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:37
بریکنگ
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں کشیدگی، بازار بند اور سیکیورٹی فورسز تعیناتانکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آج آخری تاریخ، توسیع کا مطالبہحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستاخیبرپختونخوا پولیس کیلئے تاریخی ریلیف پیکج، شہداء کے معاوضوں میں نمایاں اضافہٹرانس پشاور نے بی آر ٹی بسوں کی چوری سے متعلق سوشل میڈیا ویڈیوز کو بے بنیاد قرار دے دیاپنجاب میں موسم سرما کیلئے اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلانایران نے اپنے دفاعی نظام کو جدید ہتھیاروں سے لیس کر لیا، پاسدارانِ انقلابایران کسی بھی امریکی زمینی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایرانی جنرلیوکرین کے صدر زیلنسکی کی برطانوی وزیراعظم سے ملاقات، دفاعی تعاون پر اتفاقچوتھا ٹی 20: ویسٹ انڈیز نے بھارت کو شکست دے کر سیریز 2-2 سے برابر کر دیروس اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مزید مستحکم کرے گا، صدر ولادیمیر پوتناسرائیلی فوج میں جاسوسی کرنے والے بدو کو ساڑھے 24 سال قید کی سزااسرائیلی انٹیلیجنس چیف کا نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائرسعودی عرب سے خام تیل کی پہلی کھیپ چین پہنچ گئی، ریفائنری منصوبے پر کام تیزایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب میں کمی کا امکانبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد اضافہخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد احتجاج کیوں نہیں ہوا؟سندھ ہاری کمیٹی: کسانوں کے حقوق اور مائی بختاور کی لازوال قربانی کی داستانپاکستان اور روس کا تجارت، سرمایہ کاری اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاقازدواجی مسائل سوشل میڈیا پر لانے سے گریز کرنا چاہیے، منیب بٹ
پاکستان بریکنگ نیوز

ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں کشیدگی، بازار بند اور سیکیورٹی فورسز تعینات

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات کے بعد باڑہ میں حالات تاحال کشیدہ ہیں۔

ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں کشیدگی، بازار بند اور سیکیورٹی فورسز تعینات

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں گزشتہ روز (13 اکتوبر) ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جس کے پیش نظر بدھ کے روز بھی بازار بند رہے اور علاقے میں پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

پشاور پولیس کے مطابق گزشتہ روز تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 62 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے باڑہ بازار کو بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جبکہ پشاور سے باڑہ آنے والی سڑک پر واقع ’سیکرٹری پُل‘ پر کنٹینرز لگا کر آمد و رفت محدود کر دی گئی ہے۔

واقعات کے دوران نادرا کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث دفتر میں موجود کمپیوٹرز اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا اور سروسز غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔

ریسکیو 1122 کے انچارج وکیل شاہ نے بتایا کہ مظاہرین نے کمپاؤنڈ کے اُس دروازے کو توڑ کر عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جو معمول کے مطابق استعمال نہیں ہوتا، اور پتھراؤ کیا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں، تاہم زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے باڑہ کا دورہ کر کے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی نے حالات خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا احتجاج ہمیشہ پرامن ہوتا ہے اور منگل کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ’پلانٹڈ‘ لوگ ملوث ہیں۔

باڑہ تاجر یونین کے صدر سید ایاز وزیر نے غیر اعلانیہ بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے تاجروں اور مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اشیائے خورونوش کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم آفریدی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاکہ علاقے میں معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔

تحریک انصاف کے مقامی رہنما صہیب اللہ نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے فی الحال احتجاج کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور تمام کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے برعکس پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پولیس اہلکار کو مظاہرین کی جانب سے یرغمال نہیں بنایا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے صوبے کے مختلف علاقوں میں سیاسی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا، وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑا جائے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں