صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں گزشتہ روز (13 اکتوبر) ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جس کے پیش نظر بدھ کے روز بھی بازار بند رہے اور علاقے میں پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
پشاور پولیس کے مطابق گزشتہ روز تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 62 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے باڑہ بازار کو بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جبکہ پشاور سے باڑہ آنے والی سڑک پر واقع ’سیکرٹری پُل‘ پر کنٹینرز لگا کر آمد و رفت محدود کر دی گئی ہے۔
واقعات کے دوران نادرا کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث دفتر میں موجود کمپیوٹرز اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا اور سروسز غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے انچارج وکیل شاہ نے بتایا کہ مظاہرین نے کمپاؤنڈ کے اُس دروازے کو توڑ کر عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جو معمول کے مطابق استعمال نہیں ہوتا، اور پتھراؤ کیا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں، تاہم زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے باڑہ کا دورہ کر کے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی نے حالات خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا احتجاج ہمیشہ پرامن ہوتا ہے اور منگل کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ’پلانٹڈ‘ لوگ ملوث ہیں۔
باڑہ تاجر یونین کے صدر سید ایاز وزیر نے غیر اعلانیہ بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے تاجروں اور مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اشیائے خورونوش کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم آفریدی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاکہ علاقے میں معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔
تحریک انصاف کے مقامی رہنما صہیب اللہ نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے فی الحال احتجاج کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور تمام کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے برعکس پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پولیس اہلکار کو مظاہرین کی جانب سے یرغمال نہیں بنایا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے صوبے کے مختلف علاقوں میں سیاسی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا، وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑا جائے۔




اپنی رائے دیں