گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صرف 48 گھنٹوں کے اندر خیبرپختونخوا پولیس کیلئے تاریخی ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پولیس کے شہداء، دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
اس نئے پیکج کے تحت کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر رینک تک کے شہداء کے معاوضے کو تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی اور اے ایس پی رینک کے افسران کیلئے شہید ہونے کی صورت میں معاوضہ تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ گریڈ 18 اور 19 کے افسران کیلئے یہ رقم 2 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
اعلیٰ افسران یعنی گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے عہدیداروں کیلئے شہداء پیکج 2 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھا کر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ گورنر نے واضح کیا کہ یہ مراعات پولیس کی قربانیوں کا اعتراف ہیں۔
رہائشی سہولیات کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت اب ورثاء کو پلاٹ الاٹ ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے ورثاء کو 5 مرلہ پلاٹ کی جگہ 1 کروڑ 80 لاکھ روپے کی براہِ راست مالی معاونت دی جائے گی۔
ڈی ایس پی اور اے ایس پی سطح کے افسران کے ورثاء کو 7 مرلہ پلاٹ کے عوض 2 کروڑ 50 لاکھ روپے ملیں گے۔ اسی طرح گریڈ 18 اور 19 کیلئے 10 مرلہ پلاٹ کے عوض 3 کروڑ 50 لاکھ روپے اور گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کیلئے 1 کنال پلاٹ کی جگہ 7 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
زخمی ہونے والے اہلکاروں کیلئے بھی پیکج میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ مستقل معذوری کی صورت میں ملنے والی امداد کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے پر 1 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے ملیں گے۔
پیکج میں اہلکاروں کے قریبی رشتہ داروں کی وفات پر بھی خصوصی مالی معاونت شامل ہے۔ شریکِ حیات یا بچوں کی وفات پر 50 لاکھ روپے، جبکہ والد، والدہ، بھائی یا بہن کی وفات پر 30 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے شہداء کی بیٹیوں کی شادی کیلئے 10 لاکھ روپے بطور خصوصی تحفہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ شہداء کے بچوں کی تعلیم کیلئے بھی خصوصی تعلیمی معاونت کا نظام وضع کیا گیا ہے۔
پولیس فورس پر کام کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے خالی اسامیوں پر بھرتیاں کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ عوام کے تحفظ کیلئے مطلوبہ افرادی قوت دستیاب ہو۔
گورنر نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہوں۔
کارپوریٹ اداروں اور بینکوں کے ساتھ تعاون کیلئے سی ایس آر کے تحت ایک مربوط نظام بھی بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد پولیس کے فلاحی منصوبوں کو پائیدار بنانا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ شہداء کے خاندان ہمارا فخر ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔





اپنی رائے دیں