اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی 'شن بیت' کے سابق سربراہ رونن بار نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں سات اکتوبر کے واقعات کے بعد سے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔
رونن بار نے اپنے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے ان پر یہ سنگین الزام عائد کیا کہ انہیں حماس کے حملے کی پیشگی اطلاع تھی لیکن انہوں نے حکومت کو بروقت مطلع نہیں کیا۔ سابق انٹیلیجنس چیف کے مطابق یہ بیان ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
مقدمے میں رونن بار نے تقریباً 30 لاکھ شیکل یعنی نو لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق رونن بار نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سات اکتوبر کے حملے سے قبل متعدد بار سکیورٹی خطرات سے متعلق انتباہات جاری کیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 جولائی 2023 کو نیتن یاہو کے ساتھ ایک محفوظ ٹیلی فون لائن پر گفتگو کے دوران ممکنہ جنگ کے بارے میں تزویراتی انتباہ دیا گیا تھا۔
سابق انٹیلیجنس سربراہ نے مزید انکشاف کیا کہ 21 اگست کو بھی انہوں نے غزہ سے حملوں میں اضافے کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق یکم اکتوبر 2023 کو بھی انہوں نے فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کے بڑھتے ہوئے امکانات سے خبردار کیا تھا۔
رونن بار کا کہنا ہے کہ انہوں نے انٹیلیجنس رپورٹس کی روشنی میں اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی تجویز بھی دی تھی، تاہم اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ان انتباہات کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔
دوسری جانب رونن بار نے سات اکتوبر کے واقعے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کا اعتراف بھی کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ شن بیت اس حملے کو روکنے کے لیے درکار انٹیلیجنس فراہم کرنے میں ناکام رہا تھا، جس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا اور کئی افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا۔ اس واقعے نے اسرائیل کی سکیورٹی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے تھے اور تب سے ہی اعلیٰ حکومتی اور سکیورٹی عہدیداروں کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ مقدمہ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے ایک نئی قانونی اور سیاسی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ابھی تک اس مقدمے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم قانونی ماہرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
رونن بار کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے اندرونی سکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان کس حد تک بڑھ چکا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں جو مستقبل میں ملکی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل میں جاری اس قانونی جنگ پر عالمی مبصرین کی بھی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ سات اکتوبر کے واقعات کے بعد سے نیتن یاہو کی حکومت کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، اور اب اپنے ہی سابق انٹیلیجنس چیف کی جانب سے مقدمہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔
واضح رہے کہ رونن بار نے اپنے استعفے کے وقت بھی انٹیلیجنس ناکامی کا اعتراف کیا تھا، لیکن اب وہ اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے قانونی راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ یہ مقدمہ ثابت کرے گا کہ آیا وزیراعظم کے بیانات سیاسی مقاصد کے لیے تھے یا انٹیلیجنس کی حقیقی ناکامی کا نتیجہ۔
اس معاملے پر مزید عدالتی کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ عدالت کس طرح ان الزامات اور جوابی الزامات کا جائزہ لیتی ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں یہ ایک منفرد کیس ہے جہاں ایک انٹیلیجنس چیف نے اپنے ہی وزیراعظم کو عدالت میں کھڑا کیا ہے۔





اپنی رائے دیں