چین اور سعودی عرب کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک اور اہم کڑی مکمل ہونے کے قریب ہے، جس کے تحت سعودی خام تیل کی پہلی کھیپ چین کے صوبے لیاؤننگ میں واقع ریفائنری کمپلیکس پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے مابین صنعتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ہواجِن آرامکو پیٹروکیمیکل کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ جدید ترین ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس چین کے شہر پینجن میں قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد خام تیل کی ریفائننگ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
اس منصوبے کی تکنیکی تفصیلات کے مطابق، یہاں روزانہ 3 لاکھ بیرل خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔ اس کے علاوہ، کمپلیکس میں نصب کیمیائی پلانٹس سالانہ 16 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن ایتھیلین اور 20 لاکھ ٹن پیرا زائلین تیار کرنے کی اہلیت رکھیں گے، جو صنعتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
منصوبے کے حوالے سے ابتدائی طور پر مئی یا جون میں آپریشن شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم تکنیکی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر اس کی شروعات کو ستمبر یا اکتوبر کے اوائل تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب یہ منصوبہ اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
خام تیل کی فراہمی کے لیے چین کی سرکاری کمپنی ژنہوا آئل نے اگست کے مہینے میں سعودی عرب سے 20 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل بک کروائی تھی۔ اس اقدام سے یقینی بنایا گیا ہے کہ ریفائنری کے باقاعدہ آپریشن شروع ہوتے ہی پیداواری عمل میں کوئی تعطل نہ آئے۔
پینجن شِنچینگ کے چیئرمین جیا فئی نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ زیادہ قدر والی پیٹروکیمیکل مصنوعات اور خصوصی کیمیکلز کی پیداوار میں نمایاں اضافے کا باعث بنے گا۔ ان کے مطابق، اس سے تیل صاف کرنے اور کیمیائی صنعتوں کے مابین باہمی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
اس منصوبے کا ایک اہم ہدف پینجن شہر کو چین بھر میں پیٹروکیمیکل اور خصوصی کیمیکلز کی صنعت کے لیے ایک مرکزی حیثیت دلانا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس کمپلیکس کے قیام سے خطے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سعودی عرب اور چین کے مابین یہ صنعتی و توانائی تعاون دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی فراہمی اور چین کی جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج عالمی توانائی منڈی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے منصوبے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر توانائی کی طلب اور رسد کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس منصوبے کی کامیابی سے چین کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ سعودی عرب کو اپنی پیٹروکیمیکل مصنوعات کے لیے ایک بڑی اور مستحکم مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔ یہ شراکت داری مستقبل میں مزید بڑے منصوبوں کی راہ ہموار کرے گی۔
پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی چین اور سعودی عرب کے اس طرح کے تعاون کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں ہونے والی یہ پیش رفت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
مستقبل قریب میں جب یہ ریفائنری مکمل صلاحیت کے ساتھ کام شروع کرے گی، تو اس سے چین کی صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی مسلسل فراہمی اس منصوبے کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گی۔
اس وقت ریفائنری کے تمام شعبوں میں حتمی ٹیسٹ اور تیاریوں کا عمل جاری ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام حفاظتی اور تکنیکی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد ہی اس منصوبے کو باقاعدہ پیداوار کے لیے کھول دیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں