پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 10.88 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 9.54 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے۔ اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر میں تقریباً 14 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور معاشی چیلنجز موجود ہیں۔ اس کے باوجود بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنے خاندانوں کی کفالت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ رقوم نہ صرف ان خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث بنتی ہیں جو اپنے پیاروں کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، بلکہ یہ ملکی معیشت میں بھی براہِ راست حصہ ڈالتی ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ترسیلاتِ زر کے ان اعداد و شمار کے پیچھے لاکھوں پردیسیوں کی محنت اور قربانیاں پوشیدہ ہیں۔ بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش اور اپنے والدین کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔
پاکستان میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ہنر مند افراد بیرونِ ملک ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کو ایک بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکیں۔
والدین کے لیے اپنے بچوں کو دور بھیجنا ایک جذباتی فیصلہ ہوتا ہے، لیکن گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور بہنوں کی شادیوں جیسے معاملات کے لیے یہ ترسیلاتِ زر ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ رقوم ان خاندانوں کے لیے معاشی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ ہر مشکل حالات میں اپنے ملک کی معاشی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان بھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہتی ہے اور انہیں ترسیلاتِ زر کے لیے قانونی اور بینکنگ ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی نہ صرف محفوظ ہے بلکہ یہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو دنیا بھر میں اپنی خدمات فراہم کر کے قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں۔ یہ شعبہ مستقبل میں ترسیلاتِ زر کو مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ملک میں صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ اگر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں تو ترسیلاتِ زر کے حجم میں مزید اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ رقوم پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی کا ایک بڑا اور مستحکم ذریعہ ہیں۔
آخر میں، یہ ترسیلاتِ زر صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی محنت کا ثمر ہیں جو اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان کی یہ کاوشیں ملکی معیشت کو درپیش مشکلات سے نکالنے میں اہم ثابت ہو رہی ہیں۔





اپنی رائے دیں