ایران اور خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اس بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث رواں برس تیل کی طلب میں توقع سے زیادہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کی آخری سہ ماہی میں عالمی تیل کی طلب گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں یومیہ 25 لاکھ بیرل تک کم ہونے کا امکان ہے۔ پورے سال کے دوران اوسطاً یومیہ 26 لاکھ بیرل کی کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی میں ڈیزل کا حصہ تقریباً 25 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، تیل کی محدود فراہمی اور عالمی معیشت کے کمزور امکانات تیل کے عالمی استعمال میں کمی کے بنیادی محرکات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
آئی ای اے کی رپورٹ میں طویل مدتی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2027 تک عالمی تیل کی طلب میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی جزوی بحالی تو ممکن ہے، تاہم مجموعی استعمال 2025 کی سطح سے بھی 0.6 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔
توانائی کے شعبے میں جاری یہ تبدیلیاں عالمی سطح پر توانائی کی کھپت کے پیٹرن کو تبدیل کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ عوامل نہ صرف موجودہ دور بلکہ آنے والے برسوں میں بھی عالمی معاشی سرگرمیوں اور صنعتی پیداوار پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی تیل کی پیداوار میں ماہانہ بنیاد پر یومیہ 25 لاکھ بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد کل پیداوار 10 کروڑ 23 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے میں سعودی عرب کی قیادت میں اوپیک پلس ممالک کا کردار نمایاں رہا ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال عالمی تیل کی رسد یومیہ 10 کروڑ 70 لاکھ بیرل تک گر سکتی ہے۔ اگرچہ 2027 میں اس میں یومیہ 77 لاکھ بیرل اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، لیکن خلیجی خطے میں حملوں کے خدشات رسد کی بحالی کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 106.37 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 95.30 ڈالر فی بیرل تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خلیجی ممالک کی جانب سے پیداوار میں اضافہ عارضی ثابت ہو سکتا ہے اگر خطے میں سکیورٹی کے حالات مزید خراب ہوئے۔ تیل کی ترسیل کے اہم راستوں پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تیل کی طلب میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ توانائی کا بحران ختم ہو گیا ہے۔ درحقیقت، قیمتوں میں اضافہ اور رسد کی عدم دستیابی دنیا بھر کے صارفین کے لیے مہنگائی کا باعث بن رہی ہے۔
مختلف ممالک کی جانب سے تیل کے ہنگامی ذخائر کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ تاہم، عالمی منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
عالمی معیشت کے کمزور امکانات نے بھی تیل کی کھپت کو محدود کر دیا ہے۔ جب بڑی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیاں سست پڑتی ہیں تو ایندھن کی طلب میں خود بخود کمی واقع ہو جاتی ہے، جس کا اثر براہ راست تیل پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی پر پڑتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں امن اور استحکام کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، عالمی تیل کی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ عالمی توانائی ایجنسی کی یہ رپورٹ اسی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔





اپنی رائے دیں