ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے بھارت کے خلاف پانچ میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے چوتھے مقابلے میں فتح حاصل کر کے سیریز کو دلچسپ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ حیدرآباد کے کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں مہمان ٹیم نے میزبان بھارت کو 24 رنز سے شکست دی۔
اس کامیابی کے بعد پانچ میچوں کی سیریز اب 2-2 سے برابر ہو گئی ہے، جس کے باعث اب سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کن میچ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ یہ فیصلہ کن معرکہ 17 اکتوبر کو بینگالورو میں کھیلا جائے گا۔
میچ کا آغاز بھارت کے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا۔ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے اس فیصلے کو غلط ثابت کرتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 247 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کر دیا۔
مہمان ٹیم کی جانب سے کپتان شے ہوپ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 102 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کا بھرپور ساتھ شرفین ردرفورڈ نے دیا جنہوں نے 49 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔ دیگر بلے بازوں میں شمرون ہیٹمائر 33 اور روومن پاول 24 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
بھارتی بولرز ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کو قابو کرنے میں ناکام دکھائی دیے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے پرنس یادو، اکشر پٹیل اور ارشدیپ سنگھ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے بھارتی بولنگ لائن اپ کے خلاف کھل کر رنز بنائے اور بڑا مجموعہ ترتیب دیا۔
ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم کا آغاز توقع کے مطابق نہ ہو سکا اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ پوری بھارتی ٹیم 19.3 اوورز میں 223 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، جس کے نتیجے میں انہیں 24 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارت کی جانب سے سنجو سیمسن نے سب سے زیادہ 56 رنز کی اننگز کھیلی۔ دیگر بلے بازوں میں تِلک ورما 43، نتیش کمار ریڈی 41 اور ابھیشک شرما 29 رنز بنا سکے۔ کپتان شریاس ایر سمیت دیگر کھلاڑی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
ویسٹ انڈیز کے بولرز نے بھارتی بیٹنگ لائن کو تاش کے پتوں کی طرح بکھیر دیا۔ کِیمو پال نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کے علاوہ گُداکیش موتی نے 2 جبکہ شیمر اسپرنگر اور روماریو شیفرڈ نے ایک ایک وکٹ اپنے نام کی۔
اس میچ میں ویسٹ انڈیز کی آل راؤنڈ کارکردگی نے شائقین کرکٹ کو متاثر کیا۔ خاص طور پر کپتان شے ہوپ کی سنچری اور کِیمو پال کی پانچ وکٹوں نے میچ کا پانسہ پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اب دونوں ٹیمیں سیریز جیتنے کے لیے آخری میچ میں پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔
بھارتی ٹیم کے لیے یہ شکست ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ سیریز میں برتری حاصل کرنے کے قریب تھے۔ اب بینگالورو میں ہونے والا آخری میچ کسی فائنل سے کم نہیں ہوگا، جہاں دونوں ٹیمیں اپنی ساکھ بچانے اور سیریز اپنے نام کرنے کے لیے کوشاں ہوں گی۔
کرکٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز نے جس طرح دباؤ میں آ کر واپسی کی ہے، اس سے ان کا مورال بلند ہوا ہے۔ دوسری جانب بھارتی ٹیم کو اپنی بولنگ اور بیٹنگ میں درپیش مسائل پر قابو پانا ہوگا تاکہ وہ فیصلہ کن میچ میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
سیریز کے اس اہم موڑ پر شائقین کی نظریں اب بینگالورو کے اسٹیڈیم پر مرکوز ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ دونوں ہی ٹیمیں سیریز اپنے نام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس سیریز کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 17 اکتوبر کو ہونے والے فیصلہ کن میچ میں کون سی ٹیم اپنی اعصابی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کر کے ٹرافی پر قبضہ جماتی ہے۔





اپنی رائے دیں