تہران میں خطے کی سلامتی، استحکام اور بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم چار ملکی اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور میزبان ملک ایران کے اعلیٰ سطحی وفود شرکت کر رہے ہیں۔ اس اہم ملاقات کو خطے میں سفارتی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مسلم ممالک کے نمائندے موجودہ علاقائی چیلنجز پر غور کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دارالحکومت تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس چار ملکی اجلاس کے انعقاد کی تجویز پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیش کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تہران نے پاکستانی تجویز کو فوری طور پر مثبت انداز میں قبول کرتے ہوئے ان اہم ممالک کے سینئر حکام کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی۔
ترجمان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے اور ایران کسی مشترکہ اور باضابطہ پلیٹ فارم پر اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں براہ راست حصہ لے رہے ہیں۔ اجلاس کا بنیادی ہدف خطے میں پائے جانے والے عدم استحکام کو دور کرنے کے لیے موثر سفارتی اور سیاسی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
مذاکرات کے ایجنڈے میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں اور عزائم سر فہرست رکھے گئے ہیں جبکہ لبنان اور خطے کے دیگر حصوں میں جاری تباہ کن جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ انسانی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ شرکا اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اجلاس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ تہران ہر ممکنہ اور ہنگامی صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم ملکی سلامتی کے دفاع کے مسلمہ حق کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے دروازے بھی کھلے رکھے گئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ تہران اور واشنگتن کے درمیان مختلف ثالثوں کے توسط سے پیغامات کا تبادلہ تاحال جاری ہے اور اس سفارتی عمل کے دوران پاکستان نے ماضی کی طرح ہمیشہ ایک اہم اور سازگار رابطہ کار کا تعمیری کردار نبھایا ہے۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات اور مطالبات کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ تہران کبھی بھی اپنے بنیادی قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے کے غیر منصفانه تصور کو قبول کرے گا۔ سفارتی سطح پر جاری ان رابطوں کا مقصد خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانا ہے۔
واشنگٹن کے حالیہ مطالبات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسے مطالبات سامنے لے کر آ رہا ہے جنہیں تہران یکطرفہ، غیر معقول اور ناقابل قبول سمجھتا ہے، اور ایران اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسرائیل میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے تناظر میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے انتہائی دوٹوک انداز میں کہا کہ صہیونی ریاست کے انتخابی نتائج سے خطے کے موجودہ زمینی حقائق یا ایران کی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور تہران کے نزدیک ان انتخابات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔
خطے میں جاری سفارتی متحرک سرگرمیوں کے حوالے سے ترجمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایک اعلیٰ سطحی قطری وفد بھی اس وقت تہران کے دورے پر موجود ہے جو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرانے اور فریقین کے درمیان ثالثی کا انتہائی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ تمام متعلقہ دارالحکومتوں کی مشترکہ کوشش ہے کہ امن کی راہیں نکالی جائیں۔
ماہرین کے مطابق یہ چار ملکی اجلاس خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں اہم مسلم ممالک خود آگے بڑھ کر خطے کے پیچیدہ مسائل کا اجتماعی حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کا اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرنا اسلام آباد کی متحرک خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خطے میں دیرپا امن کے قیام، باہمی اعتماد کی بحالی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی رابطے مستقبل میں بھی جاری رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ تہران میں ہونے والے ان مذاکرات کے نتائج خطے کے آئندہ امن و امان کے مستقبل کا تعین کرنے میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
ایرانی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران اپنے دفاع اور سلامتی کے تمام آئینی اور بین الاقوامی حقوق بھرپور طریقے سے استعمال کرے گا، تاہم خطے کی بہتری کے لیے ہر مثبت سفارتی تجویز کا خیرمقدم کیا جاتا رہے گا تاکہ مزید بگاڑ کو روکا جا سکے۔

اپنی رائے دیں