مواد پر جائیں
پیر 28، جمادی الاول 1448ھ 9، نومبر 2026ء آخری اپ ڈیٹ:
تازہ خبریں
اپ ڈیٹ: اڈیالہ جیل: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ مکملوزیراعظم شہباز شریف نے یوتھ لون کی حد بڑھا کر 25 ملین روپے کر دیسینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، کم از کم 34 افراد ہلاکاسلام آباد ایئرپورٹ پر وائلڈ لائف عملے کی فائرنگ سے آوارہ بندر ہلاکساف فٹبال چیمپئن شپ: پاکستان نے مالدیپ کو تین صفر سے شکست دیدیڈیاگو سیمونی نے بارسلونا کے رافینیا کو غیر معمولی کھلاڑی قرار دے دیاقومی ٹیسٹ اسکواڈ میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت سے بینچ مضبوط ہوگا: مائیک ہیسناسلام آباد پولیس کے افسران کی ذہنی صلاحیت اور فیصلہ سازی جانچنے کا عمل جاریخیبرپختونخوا میں جنازوں کے بجائے امن اور ترقی کا نفاذ ہونا چاہیے، فیصل کریم کنڈیکارلوس الکاراز نے بین شیلٹن کو شکست دے کر پیرس ماسٹرز ٹائٹل جیت لیامرگلہ ایونیو ایکسٹینشن اور سنگ جانی انٹرچینج منصوبے کا 35 فیصد کام مکملصدر مملکت کا پولینڈ میں فائرنگ کے واقعے پر اظہارِ تعزیتمذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو ایران پر مزید حملے نہیں کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپعلامہ اقبال کی 150ویں سالگرہ کی سرکاری تقاریب مزارِ اقبال لاہور میں شروعپولینڈ کے شہر کراکوف میں فائرنگ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اظہار افسوسوزیراعظم شہباز شریف کی ضمنی الیکشن میں کامیابی پر محمد اسد حنیف کو مبارکبادانڈر 19 ایشیا کپ: حمزہ ظہور کی سنچری، پاکستان نے بھارت کو ہرا دیاعلامہ محمد اقبال کا 149 واں یومِ پیدائش ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہےتھائی لینڈ آئی ٹی ایف ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹس، رشید ملک چار رکنی سینئر ٹینس ٹیم کی قیادت کریں گےسیاحت کا جی ڈی پی میں حصہ دوگنا کرنے کیلئے نجی شعبے کو مراعات ضروری ہیں: نوشیروان خلیل
دنیا

مذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو ایران پر مزید حملے نہیں کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مضبوط معاہدہ طے پانے کی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

مذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو ایران پر مزید حملے نہیں کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپتصویر: وکی میڈیا کامنز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوتی رہی تو ان کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کا حکم دینے کا امکان انتہائی کم ہے۔ ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط معاہدہ طے پانے کی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران میں بنیادی ڈھانچے کے اہم اہداف کی نشاندہی کر رکھی ہے، جن میں 38 پل شامل ہیں جنہیں ایک گھنٹے میں تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کی تعمیرِ نو میں تقریباً دس سال لگ سکتے ہیں اور پل تعمیر کرنا ایک مشکل کام ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے کیونکہ امریکی فوج خطے میں مکمل طور پر تیار اور ہتھیاروں سے لیس ہے۔ انہوں نے ایران کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک ناکام ہوتی ہوئی ریاست قرار دیا اور کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

امریکی صدر نے انٹرویو کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ ان کے پاس تین طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں جو مکمل طور پر تیار اور ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے دوبارہ حملوں کا حکم دیا تو امریکی فوج پہلے ہی خطے میں کارروائی کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔

دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل شکارچی نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کا عزم توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دباؤ اور فوجی حکمت عملی ایران کی دفاعی قوت کے سامنے ناکام ثابت ہوئی ہے اور عالمی طاقت کا توازن ہمیشہ بالادستی کی خواہش رکھنے والوں کے حق میں نہیں ہوتا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا ایرانی معیشت کی ناکہ بندی یا تجارتی راستے بند کرکے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکی پابندیوں کے خلاف مکمل تیاری کر رکھی ہے اور وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

حسین محبی نے مزید کہا کہ امریکی فوجی ٹاسک فورس 'آئرن گیٹ' منصوبہ محض لفظوں کا کھیل ہے اور اس کے ذریعے امریکا ایران پر شدید معاشی دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی معاشی اور دفاعی حکمت عملیوں کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر ایران کے معاملے پر مستعفی ہونے والے امریکی انسدادِ دہشت گردی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی عوام ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کی تحقیقات میں اسرائیلی حکومت اور اس کی حمایت کرنے والی لابیوں کے دعووں کی تصدیق نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر امریکا کو جنگ میں دھکیلا گیا۔

جو کینٹ نے مزید کہا کہ امریکی عوام نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو جنگ ختم کرنے کا پیغام دے دیا ہے۔ انہوں نے مارچ 2026 میں ایران جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دوبارہ فوجی تصادم شروع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد پر واقع دو گزرگاہوں کے علاوہ باقی تمام سرحدی راستے بند کر دے۔

فواد حسین کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات معطل ہونے کے باعث عراق کو تقریباً 60 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی گزرگاہیں بند ہونے سے مقامی سطح پر بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے روس کے ساتھ رشت آستارا ریلوے منصوبے سے متعلق معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ اس 162 کلومیٹر طویل ریلوے روٹ کے لیے اراضی سروے اور تکنیکی جائزے روسی کمپنی کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ خطے میں تجارتی روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں