وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا گورننس ماڈل اتنا منفرد اور مؤثر ہے کہ مستقبل میں اس پر پی ایچ ڈی کی جایا کرے گی۔ انہوں نے یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام 'دی رپورٹرز' میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
حذیفہ رحمان نے کہا کہ سرکاری افسران اور بیوروکریٹس اس بات پر متفق ہیں کہ وزیراعظم غیر معمولی ذہانت اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی کام کرنے کی رفتار اور محنت کا معیار بہت بلند ہے۔
معاون خصوصی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی نجی محفلوں میں شہباز شریف کی ذہانت کا ذکر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی ذہانت کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی خوفزدہ رہتے تھے اور ان کی کوشش رہی کہ شہباز شریف پارلیمنٹ میں نہ آ سکیں۔
وزیراعظم کی محنت کا ذکر کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ کوئی بھی وزیر اتنا کام نہیں کرتا جتنا کام وزیراعظم خود کرتے ہیں۔ وہ اتنی زیادہ محنت کرتے ہیں کہ اپنی کابینہ کے اراکین سے بھی اسی طرح کی کارکردگی اور محنت کی توقع رکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان کا موازنہ تاریخ کے عظیم سائنسدانوں سے کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر معاشروں میں اکثر باصلاحیت افراد کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ آئن اسٹائن اور نیو ٹن کو بھی ان کی زندگی میں درست نہیں سمجھا گیا تھا، لیکن بعد میں ان کے کام کی اہمیت تسلیم کی گئی۔
حذیفہ رحمان نے واضح کیا کہ ان کا مقصد وزیراعظم کی ذہانت کو کسی سائنسی پیمانے پر تولنا نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے اس بیان میں کوئی سائنسی حوالے کا پیمانہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عام بات تھی جس پر کوئی متفق ہو یا نہ ہو، یہ ان کی اپنی رائے ہے۔
مریم نواز پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کے حوالے سے معاون خصوصی نے سخت تنبیہ کی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو بات دور تک جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن کا بیانیہ بنانے والوں کو چاہیے کہ وہ یہ سلسلہ بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ الزامات لگانے والوں کو اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ سیاسی ماحول میں تلخی نہ بڑھے۔
پروگرام کے دوران سیاسی گروپ بندی سے متعلق سوالات پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ سیاسی گروپ بندی کے دعوؤں میں حقیقت کم اور افواہ سازی زیادہ ہوتی ہے، اور کسی کا نام لینے کے لیے ٹھوس ثبوت کا ہونا ضروری ہے۔
حذیفہ رحمان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزیراعظم کی کارکردگی اور ان کے گورننس ماڈل پر حکومتی حلقوں کی جانب سے مسلسل تعریفیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب، اپوزیشن کی جانب سے حکومتی کارکردگی پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ تاہم، حکومتی ترجمان وزیراعظم کی محنت اور ذہانت کو ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ حکومتی نمائندے اپنی کارکردگی کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

اپنی رائے دیں