برطانوی کامیڈین اور اداکار رسل برانڈ کو لندن کی سدک کراؤن کورٹ نے ریپ اور جنسی حملوں کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت کی جیوری نے 51 سالہ اداکار کو ان کے خلاف دائر سات الزامات میں سے چار پر قصوروار پایا۔
عدالتی فیصلے کے بعد رسل برانڈ کو عدالتی تحویل میں لے کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اداکار کو قید کی سزا سنائی جائے گی جس کا باضابطہ اعلان پیر کو کیا جائے گا۔
مقدمے کے دوران استغاثہ نے بتایا کہ یہ الزامات 1999 سے 2009 کے درمیان پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہیں جن کا تعلق چھ مختلف خواتین سے ہے۔ ان الزامات میں ریپ کے تین اور جنسی حملوں کے تین واقعات شامل تھے۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق، رسل برانڈ کو 2004 میں لندن کے ایک بار اور 2004 یا 2005 میں ایک ریڈیو اسٹوڈیو میں خواتین پر جنسی حملہ کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2009 میں اپنے گھر پر ایک خاتون کے ساتھ ریپ اور اسی سال ایک اور جنسی حملے کے واقعے میں بھی انہیں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔
متاثرہ خواتین نے عدالت کو بتایا کہ رسل برانڈ نے انہیں ان کی مرضی کے خلاف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ایک خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ جب انہوں نے رکنے کا کہا تو اداکار نہیں رکے، جبکہ دیگر خواتین نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات جیوری کے سامنے بیان کیں۔
رسل برانڈ نے مقدمے کے دوران اپنے اوپر عائد تمام سات الزامات کی تردید کی تھی۔ ان کے وکلاء کا موقف تھا کہ جنسی تعلقات باہمی رضامندی سے قائم ہوئے تھے یا پھر یہ واقعات تصوراتی ہیں۔
اداکار ماضی میں برطانیہ کے معروف براڈکاسٹر رہے ہیں اور امریکی گلوکارہ کیٹی پی ری کے سابق شوہر بھی ہیں۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران متاثرہ خواتین نے ان مشکلات کا بھی ذکر کیا جو انہیں اتنے برسوں بعد شکایت درج کروانے میں پیش آئیں۔
مقدمے کی کارروائی کے دوران پولیس کو دیے گئے ویڈیو انٹرویوز بھی جیوری کو دکھائے گئے جن میں متاثرہ خواتین نے ان واقعات کی تفصیلات بیان کیں۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد جیوری کے فیصلے کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا ہے۔




اپنی رائے دیں